زندگی میں اکثر افراد کو سانس کی بو کا سامنا ہوتا ہے، جو مختلف وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے۔ اس مسئلے کی وجوہات میں تمباکو نوشی، منہ خشک ہونا اور مخصوص غذائیں شامل ہیں۔
کراچی: (رائیٹ ناؤنیوز) زندگی میں اکثر افراد کو سانس کی بو کا سامنا ہوتا ہے۔ طبی زبان میں اس مسئلے کو ہالیٹوسس (halitosis) کہا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ مختلف وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے، جن میں بعض اوقات مختلف امراض بھی شامل ہوتے ہیں۔
ایک تحقیق کے مطابق 50 فیصد بالغ افراد کو زندگی میں کسی نہ کسی وقت سانس کی بو کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ مسئلہ عموماً عارضی ہوتا ہے لیکن کچھ کیسز میں دائمی بھی ہو سکتا ہے۔ بزرگ افراد میں یہ زیادہ عام ہے مگر ہر عمر کے لوگ متاثر ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سانس کی بو کی بڑی وجوہات میں زبان، دانتوں اور مسوڑوں پر غذا کے ذرات کا اجتماع شامل ہے۔ یہ ذرات جب سڑ جاتے ہیں تو سانس سے ناخوشگوار بو پیدا ہوتی ہے۔ دانتوں کی صفائی کے ساتھ زبان کی صفائی بھی ضروری ہے۔
واضح رہے کہ تمباکو نوشی، منہ خشک ہونا اور مخصوص غذاؤں کا استعمال بھی سانس کی بو کا باعث بنتا ہے۔ معدہ کی غذا میں موجود تیل سانس کی بو پیدا کر سکتا ہے۔ دانتوں اور مسوڑوں کے امراض بھی اس مسئلے کی وجوہات میں شامل ہیں۔
یاد رہے کہ گردوں، جگر کے امراض، ذیابیطس اور سینے میں تیزابیت کی علامات میں بھی سانس کی بو شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم گھریلو ٹوٹکوں کی مدد سے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔















