ایران نے امریکا کے حملوں کا جواب دیتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں جوابی کارروائیاں کی ہیں، جس سے علاقائی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
تہران: (رائیٹ ناؤ نیوز) امریکا اور ایران کے درمیان شدید حملوں کے تبادلے میں مشرق وسطیٰ کی سلامتی خطرے میں پڑ گئی ہے۔ ایران نے کویت، عراق، بحرین اور اردن میں جوابی کارروائیاں کی ہیں۔
ایران نے بحرین، کویت اور اردن پر میزائل اور ڈرون حملے کیے۔ ایرانی فوج نے کہا ہے کہ اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ اردن کی فوج نے 8 ایرانی ڈرونز کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق کویت میں علی السالم ایئر بیس پر امریکی ریڈار سسٹم کو ہدف بنایا گیا۔ کویت نے ایرانی میزائل اور ڈرونز کو روکنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ام قصر پورٹ بیس پر بھی امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ امریکی حملوں میں ایران کے 35 سے زائد افراد ہلاک اور 300 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔ امریکا نے ایران کی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا جس سے توانائی کی ترسیل متاثر ہوئی۔ امریکی صدر نے کہا ہے کہ ایران اب بھی مذاکرات میں دلچسپی رکھتا ہے۔














