پاکستان کی ایران سے بجلی خریداری کی وضاحت سینیٹ میں پیش

سینیٹ اجلاس میں حکومت نے ایران سے بجلی خریداری کی قیمت 18 روپے فی یونٹ بتائی، اضافی لیوی سے 66.13 ارب روپے جمع کیے گئے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)

وفاقی حکومت نے بلوچستان کے لیے ایران سے بجلی خریداری کی قیمت کی وضاحت کر دی۔ سینیٹ اجلاس میں بتایا گیا کہ ایران سے 204 میگاواٹ بجلی درآمد کی جا رہی ہے اور اس کی قیمت 18 روپے فی یونٹ مقرر ہے۔

چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ اجلاس میں پینل آف چیئرز کا اعلان کیا گیا۔ سینیٹر شہادت اعوان، سینیٹر عمر فاروق، اور سینیٹر افنان اللہ کو پینل آف چیئرز میں نامزد کیا گیا۔ اس موقع پر پی ٹی آئی کے سینیٹر فیصل جاوید نے تقریر کے لیے وقت مانگا، تاہم چیئرمین نے وقفہ سوالات کے بعد وقت دینے کی ہامی بھر لی۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ اپریل سے ستمبر 2025 کے دوران اضافی لیوی کے ذریعے 66.13 ارب روپے جمع کیے گئے۔ پیٹرولیم مصنوعات پر 7 اور 8 روپے اضافی لیوی عائد کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے بجلی کی قیمت کے حوالے سے بتایا کہ 18 روپے فی یونٹ کی قیمت خرید ہے اور یہی قیمت صارفین کو فراہم کی جا رہی ہے۔

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عالمی سطح پر کمی کے باوجود پاکستان میں اضافی بوجھ کے سوال پر کہا گیا کہ لیوی کی مد میں مزید 200 ارب روپے جمع کرنے کا ہدف ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں