ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات میں منجمد اثاثے اہم مسئلہ ہیں۔ ایران کے عالمی سطح پر منجمد اثاثے 100 ارب ڈالر سے زائد ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد مذاکرات کے دوسرے دور کی تیاریاں جاری ہیں۔ ان مذاکرات میں ایران کے عالمی سطح پر منجمد اثاثے ڈی فریز کرنے پر بھی اختلافات برقرار رہے ہیں۔
امریکا اور ایران کے درمیان عسکری محاذ پر جنگ ختم ہونے کے باوجود معاشی جنگ جاری ہے۔ حالیہ مذاکرات میں ایران کے منجمد اثاثے اہم مسئلہ رہے جبکہ امریکا نے ایران کے جوہری پروگرام کو مرکزی حیثیت دی۔
ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے واضح کیا کہ اثاثوں کی بحالی ایران کا حق ہے۔ اسلام آباد مذاکرات میں ایران کے سینٹرل بینک کے گورنر بھی شریک ہوئے۔
ایران کے منجمد اثاثے 100 ارب ڈالر سے زائد ہیں، جو مختلف ممالک میں موجود ہیں۔ ان میں بڑی رقم تیل کی فروخت سے حاصل شدہ ہے جسے امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایران نہیں لے سکتا۔
واضح رہے کہ ایران کے اثاثے 1979 میں پہلی بار منجمد کیے گئے تھے جب ایرانی طلبہ نے تہران میں امریکی سفارت خانے پر قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے یہ اثاثے مختلف پابندیوں اور عدالتوں کی وجہ سے منجمد ہیں۔












