محسن نقوی نے 100 ارب ڈالر کی بیرون ملک منتقلی پر تشویش کا اظہار کیا اور تاجروں سے 30 فیصد پیسہ واپس لانے کی درخواست کی۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ گزشتہ تین چار سالوں میں 100 ارب ڈالر پاکستان سے باہر منتقل ہوئے ہیں۔ تاجروں سے درخواست ہے کہ اگر 30 فیصد پیسہ ہی واپس لے آئیں تو بجٹ سے پہلے 10 ارب ڈالر ملک میں آ سکتے ہیں۔
کراچی میں فیڈریشن ہاؤس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ روشن اکاؤنٹ کا نظام موجود ہے، اور پاکستان جو منافع دیتا ہے وہ دنیا میں کہیں نہیں ملتا۔ تاجروں کے ویزوں سے متعلق تجاویز جلد وزیر اعظم کو پیش کی جائیں گی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ ایف آئی اے کے معاملات کو بزنس فرینڈلی بنایا جائے گا۔ کچھ افراد کی وجہ سے پوری کمیونٹی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ اگر پیسہ باہر گیا تو اس کی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
محسن نقوی نے مزید کہا کہ بزنس مین کے لیے ماحول بہتر ہوگا، اور ان کے لیے علیحدہ پاسپورٹ جاری کرنے کی تجویز ہے۔ پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ بہتر بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں منی چینجرز کی ٹرانزیکشنز کی تحقیقات جاری ہیں اور ان معاملات کو بینک کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔














