آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی کی قانونی حیثیت پر بحث جاری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مؤثر ہو تو یہ بین الاقوامی قوانین کے تحت جائز ہے۔
آبنائے ہرمز: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں ایرانی بندرگاہوں پر قانونی اور دفاعی مباحثہ چھڑ گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ ناکہ بندی بین الاقوامی قوانین کے تحت ممکن ہے مگر کچھ شرائط کے ساتھ۔
بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈگلس گلفائل نے کہا ہے کہ ناکہ بندی کے قانونی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ یہ مؤثر ہو اور تمام جہازوں پر لاگو ہو۔ ان کے مطابق، اب تک صرف ایک جہاز ناکہ بندی کو توڑ کر گزرنے میں کامیاب ہوا ہے، جس سے ناکہ بندی کی مؤثریت ظاہر ہوتی ہے۔
امریکی حکام نے آبنائے ہرمز میں 15 سے زائد جنگی جہاز تعینات کیے ہیں۔ ناکہ بندی کے دوران اگر کوئی ایرانی جہاز گزرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے روک لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی جہاز مزاحمت کرتا ہے تو امریکی حکام زبردستی کنٹرول سنبھال سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق، ناکہ بندی کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہیے کہ عام آبادی کو متاثر کیا جائے۔ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے بچنے کے لیے ایران سے غیر متعلقہ تجارت کی اجازت ہونی چاہیے۔
واضح رہے کہ ماضی میں اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ناکہ بندی پر بھی اسی بنیاد پر تنقید کی گئی تھی۔ وینزویلا کی ناکہ بندی کے دوران بھی امریکا نے تیل بردار بحری جہازوں پر اسی طرح کی کارروائیاں کی تھیں۔












