نیپرا کے نیٹ بلنگ نظام پر سیاسی اور ماہرین کا شدید ردعمل

نیپرا کے نیٹ بلنگ نظام پر سیاسی رہنماؤں اور ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے، جسے شمسی توانائی کے فروغ اور بجلی شعبے کی خرابیوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا جا رہا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
نیپرا کے نیٹ بلنگ نظام پر سیاسی و ماہرین کا شدید ردعمل

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کے نیٹ میٹرنگ نظام کی جگہ نیٹ بلنگ فریم ورک کے نفاذ پر سیاسی رہنماؤں اور توانائی ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی شمسی توانائی کے فروغ کو متاثر کرے گی اور بجلی کے شعبے کی بنیادی خرابیوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔

سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے حکومت پر بجلی کے مسائل کے حل میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ صارفین سے اضافی قیمت وصول کرنا حکومتی نااہلی کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے مترادف ہے۔

پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ نئے ضوابط موسمیاتی اہداف سے متصادم ہیں اور صاف توانائی پیدا کرنے والے شہریوں کو سزا دیتے ہیں۔


تحریک انصاف کے رہنما تیمور سلیم جھگڑا نے خبردار کیا کہ صارفین بیٹری بیسڈ سولر نظام اپنانے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ صارفین بجلی خریدنے پر 40 روپے فی یونٹ ادا کریں
گے جبکہ اضافی شمسی بجلی کے بدلے انہیں 11 روپے فی یونٹ ملیں گے۔

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ نئے نظام میں واضح نرخوں کا فرق رکھا گیا ہے۔ ان کے مطابق صارفین تقریباً 40 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی خریدیں گے، لیکن اضافی سولر بجلی دینے پر انہیں صرف تقریباً 11 روپے فی یونٹ ملیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح ریاست کو فائدہ ہوگا مگر عام شہری کو نقصان اٹھانا پڑے گا۔


توانائی ماہرین نے کہا کہ نئے ضوابط کے تحت یوٹیلٹیز اضافی بجلی قومی اوسط نرخ پر خریدیں گی اور معاہدے کی مدت سات سال سے کم کر کے پانچ سال کر دی گئی ہے۔ نیپرا نے واضح کیا ہے کہ موجودہ صارفین اپنے معاہدوں کی مدت پوری ہونے تک پرانے نظام کے تحت رہیں گے۔

سابق وزیر خزانہ حماد اظہر نے کہا کہ بجلی کے شعبے میں پالیسی بار بار بدلی جا رہی ہے اور بعض فیصلے ماضی سے بھی لاگو کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق جب حکومت پہلے کیے گئے معاہدوں یا وعدوں کو بدل دیتی ہے تو لوگوں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد کم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے فیصلوں سے لوگ گرڈ سے ہٹ کر اپنا الگ سولر نظام لگانے پر مجبور ہو سکتے ہیں، جس سے قومی گرڈ کمزور پڑ سکتا ہے۔

ناقدین نے اس فیصلے کو صارفین کے اعتماد اور قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے، جبکہ نیپرا کے مطابق یہ اقدام گرڈ کے استحکام اور مجموعی عوامی مفاد کے لیے ضروری ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں