ماضی میں کن سیاسی رہنماوٴں کو جعلی ڈگری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا؟

ماضی میں کن سیاسی رہنماوٴں کو جعلی ڈگری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا؟
نواب اسلم رئیسانی، مریم نواز، آصف علی زرداری اور خالد خورشید جیسی مشہور شخصیات کو جعلی ڈگریوں کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے کچھ کو عدالتوں نے نااہل قرار دیا جبکہ کچھ کی ڈگریوں پر اعتراضات مسترد کیے گئے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ماضی میں کن سیاسی رہنماوٴں کو جعلی ڈگری کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا؟ [Publish]

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسلام آباد ہائیکورٹ نے جعلی ڈگری کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس طارق جہانگیری کو نااہل قرار دیا ہے۔ عدالت نے وزارت قانون کو حکم دیا ہے کہ وہ انہیں بطور جج ڈی نوٹیفائی کرے۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ سرفراز ڈوگر اور جسٹس اعظم خان پر مشتمل بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 62 اور 63 کے مطابق امیدوار کے لیے ضروری ہے کہ وہ صادق اور امین ہو، اور جعلی دستاویزات جمع کرانا نااہلی کا باعث بن سکتا ہے۔

ماضی میں نواب اسلم رئیسانی، مریم نواز، آصف علی زرداری اور خالد خورشید جیسی مشہور شخصیات کو جعلی ڈگریوں کے الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان میں سے کچھ کو عدالتوں نے نااہل قرار دیا جبکہ کچھ کی ڈگریوں پر اعتراضات مسترد کیے گئے۔

2013 میں سپریم کورٹ کے حکم پر ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پارلیمانی ارکان کی ڈگریوں کی جانچ پڑتال کی، جس میں 54 سیاست دانوں کی ڈگریاں جعلی یا غیر تسلیم شدہ قرار دی گئیں۔

نادرا کے سابق ڈائریکٹر جنرل ذوالفقار احمد بھی جعلی ڈگری کیس کا سامنا کر چکے ہیں اور اسلام آباد ہائیکورٹ نے ان کی درخواست خارج کر دی۔

دیگر متعلقہ خبریں