روسی صدر پیوٹن نے خبردار کیا کہ امریکی امن تجاویز پر عمل نہ کیا گیا تو روس یوکرین میں مزید علاقے حاصل کر سکتا ہے۔
ماسکو: (رائیٹ ناوٴ نیوز) روسی صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ اگر یوکرین اور یورپی رہنما امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی امن تجاویز پر سنجیدگی سے بات چیت نہیں کریں گے تو روس فوجی طاقت کے ذریعے یوکرین میں مزید علاقے حاصل کر سکتا ہے۔ روس کے وزارتِ دفاع کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹن نے کہا کہ روس اپنے اہداف طاقت یا سفارت کاری کے ذریعے حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پیوٹن نے دعویٰ کیا کہ روس یوکرین کے تقریباً 19 فیصد علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے، جس میں 2014 میں ضم کیا گیا جزیرہ نما کریمیا بھی شامل ہے۔ یوکرین ان دعوؤں کو مسترد کرتا ہے اور عالمی برادری کی اکثریت بھی ان علاقوں کو یوکرین کا حصہ تسلیم کرتی ہے۔
اجلاس میں روسی وزیرِ دفاع آندرے بیلوسوف نے کہا کہ 2026 کے لیے روسی افواج کی پیش قدمی کی رفتار میں اضافہ ایک اہم ہدف ہے۔
یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے یورپی اتحادیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روس کے منجمد اثاثوں کو استعمال کریں تاکہ ماسکو کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ جنگ جاری رکھنا بے معنی ہے۔ زیلنسکی نے کہا کہ یورپی یونین میں موجود روسی اثاثوں کو یوکرین کے لیے قرض کی معاونت میں استعمال کیا جائے۔

![پیوٹن کی وارننگ، یوکرین نے امن تجاویز نہ مانیں تو جنگ جاری رہے گی [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/12508_2025-12-18_12-05-01.webp)










