پاکستان نے بین الاقوامی ثالثی عدالت کے فیصلے کی تائید کی، بھارت کا مسترد کرنا قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤنیوز) ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے فیصلے کو مسترد نہیں کرسکتا۔ یہ فیصلہ بین الاقوامی ثالثی عدالت نے دیا ہے جو پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ 31 اگست کو مکہ معاہدے کی کمیٹی کا اجلاس استنبول میں ہوا۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔ اس تعاون کا سیکرٹریٹ سعودی عرب میں قائم ہوگا، جبکہ پاکستان تین سال تک سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری لے گا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بشکیک میں ایرانی صدر سے ملاقات کی۔ پاکستان ایران اور امریکا کے تنازع کے حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ دونوں فریق جب مذاکرات کی طرف آئیں گے، تو بات چیت آگے بڑھ سکتی ہے۔
ترجمان نے مزید کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے فیصلے کو مسترد کرنا بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ بھارت اپنی سہولت کے مطابق بین الاقوامی فیصلوں کو قبول یا مسترد نہیں کرسکتا۔
واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدے کے جائزے کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم کی آمد کی معلومات نہیں ہیں۔ افغانستان کے لیے چین کے نمائندہ خصوصی نے اسلام آباد میں پاکستانی سفیر سے ملاقات کی۔













