گھریلو ملازم ذیشان نے حنا جاوید قتل کیس میں اہم انکشافات کیے ہیں جس سے کیس کی تحقیقات میں پیش رفت ہوئی ہے۔
راولپنڈی: (رائیٹ ناؤنیوز) قومی اسمبلی کی ڈیجیٹل میڈیا ایگزیکیٹیو حنا جاوید کے قتل کیس میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ فیصل اصغر امام کے گھریلو ملازم ذیشان نے تفتیش کے دوران مزید معلومات فراہم کی ہیں۔
ایس ایس پی انوسٹی گیشن سیف اللّٰہ کی سربراہی میں خصوصی ٹیم نے انکشافات کی روشنی میں تحقیقات تیز کر دی ہیں۔ ذیشان نے پولیس کو بتایا کہ فیصل اصغر نے اسے واردات میں معاونت کے لیے رقم دینے کی پیشکش کی تھی۔
پولیس نے ملزمان فیصل اصغر امام، اس کے والد اصغر فیاض امام اور ملازم ذیشان کو ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے لاہور منتقل کیا۔ تاہم، پولیس نے صرف ڈی این اے سمپلز جمع کیے ہیں جبکہ پولی گرافک ٹیسٹ نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ حنا جاوید کے قتل نے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کیا ہے۔ والدین کی بیماری کے باعث کیس کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔ پولیس کی تحقیقات سے انصاف کی امید پیدا ہوئی ہے۔
پولیس نے کیس سے متعلق 19 شہادتیں اکٹھی کی ہیں۔ مقتولہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گردن کی ہڈی ٹوٹنے اور تشدد کی تصدیق ہوئی ہے۔ کیس کی مزید تفتیش جاری ہے اور مزید ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی۔















