نئی تحقیق کے مطابق زیادہ میٹھا کھانے والے افراد بلا سوچے سمجھے فیصلے کرتے ہیں۔ یہ تحقیق روس کی ایچ ایس ای یونیورسٹی نے کی ہے۔
ماسکو: (رائیٹ ناؤ نیوز) ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ زیادہ میٹھا کھانے کی عادت انسان کی فیصلہ سازی پر اثر ڈالتی ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ آئس کریم، چاکلیٹ اور کیک جیسی میٹھی اشیا کا استعمال لوگوں کے فیصلوں کے انداز کو متاثر کرتا ہے۔
روس کی ایچ ایس ای یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق، میٹھا کھانے والے افراد اکثر بلا سوچے سمجھے فیصلے کرتے ہیں۔ تحقیق میں 149 نوجوان شامل تھے جن کی میٹھے کی ترجیحات کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ میٹھا کھانے کے شوقین افراد فوری انعامات کو ترجیح دیتے ہیں اور طویل مدتی نتائج کو نظرانداز کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ خطرات مول لینے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق، میٹھا کھانے کے شوقین افراد کے دماغی حصوں پر اثر پڑتا ہے جو غیر یقینی صورتحال کا تجزیہ کرتے ہیں۔ ان کے اضطرابی رویے اس تبدیلی کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ تحقیق جرنل فرنٹیئرز ان سائیکولوجی میں شائع ہوئی ہے اور ان غذاؤں کو امراض قلب جیسے دائمی امراض سے جوڑا گیا ہے۔















