پسندیدہ کھانا دیکھتے ہی منہ میں پانی، دماغ کی دلچسپ حکمت عملی

کھانے کی خوشبو یا شکل دیکھتے ہی منہ میں پانی آنا دماغ کی طرف سے جسم کو کھانے کے لیے تیار کرنے کا قدرتی عمل ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
پسندیدہ کھانا دیکھتے ہی منہ میں پانی، دماغ کی دلچسپ حکمت عملی

کراچی: (رائیٹ ناؤ نیوز) کھانے کی خوشبو یا شکل دیکھتے ہی منہ میں پانی آنا ایک عام تجربہ ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دماغ اور جسم کے درمیان گہرا تعلق ظاہر کرتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب دماغ کو کسی پسندیدہ کھانے کی خوشبو یا شکل کا احساس ہوتا ہے تو وہ جسم کو کھانے کے لیے تیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اسے ‘سیفالک فیز آف ڈائجیشن’ کہتے ہیں جس میں منہ میں لعاب زیادہ بننے لگتا ہے۔

اس عمل کے دوران جسم کے ہاضمے کے حصے متحرک ہو جاتے ہیں اور منہ میں لعاب کھانے کو نرم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ قدرتی عمل بھوک کے بغیر بھی فعال ہو سکتا ہے۔

کھانے کی خوشبو اور پرانی یادیں دماغ پر تیز اثر ڈالتی ہیں، جو کھانے کی خواہش کو بڑھا سکتی ہیں۔ یہ جسمانی ردعمل کھانے کی تیاری کا حصہ ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ بعض اوقات ناپسندیدہ یا خراب کھانے سے بھی جسم میں مختلف ردعمل پیدا ہوتا ہے، جسے دماغ اور جسم کا حفاظتی نظام سمجھا جاتا ہے۔

دیگر متعلقہ خبریں