ایم آئی ٹی کا تیار کردہ روبوٹ فضا میں اڑنے اور پانی میں تیرنے کی انوکھائی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ سمندری حیات کے تحفظ میں کارآمد ثابت ہو سکتا ہے۔
بوسٹن: (رائیٹ ناؤ نیوز) میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئی ٹی) نے ایک انوکھا روبوٹ تیار کیا ہے جو پرندوں کی طرح فضا میں اڑ سکتا ہے اور مچھلیوں کی طرح زیر آب تیر سکتا ہے۔ یہ روبوٹ 300 ڈالرز میں دستیاب ہے اور ہلکا وزن ہونے کی وجہ سے اسے سمندر کے تحفظ اور مانیٹرنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ روبوٹ 13.4 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے اور 2.2 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے تیرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کی تیاری میں نائیلون کے پر اور دم استعمال کی گئی ہیں جنہیں پانی سے محفوظ رکھنے کے لیے نانو پارٹیکلز کے ذریعے پینٹ کیا گیا ہے۔
ایرو ایکواٹیک روبوٹیکس کی ٹیم نے اس روبوٹ کو تیار کیا ہے جو دیکھنے میں غوطہ لگانے والے پرندوں جیسا ہے۔ یہ روبوٹ اپنے پروں کو فضا میں اڑنے اور پانی میں تیرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ تاہم، اب تک اس کی مکمل آزمائش نہیں کی گئی ہے۔
اس روبوٹ کی تیاری کے پیچھے غوطہ لگانے والے پرندوں کے پروں پر ہونے والی تحقیق ہے۔ پہلے میساچوسٹس کے ایک واٹر ٹینک اور پھر سوئٹزرلینڈ کی جنیوا جھیل میں اس کی آزمائش کی گئی۔
یاد رہے کہ یہ روبوٹ ایک سال تک تجرباتی مراحل سے گزرا ہے اور مستقبل میں سمندری حیات کے تحفظ کے لیے اہم ثابت ہو سکتا ہے۔















