ترقی یافتہ ممالک میں ذہانت کے ٹیسٹوں میں کمی کی وجہ جینیاتی نہیں بلکہ ماحولیاتی عوامل ہیں، ماہرین کی تحقیق
دنیا: (رائیٹ ناؤ نیوز) حالیہ تحقیق میں ترقی یافتہ ممالک میں انسانی ذہانت میں کمی کا انکشاف ہوا ہے۔ سائنس دانوں نے اس رجحان کو ‘ریورس فلن ایفیکٹ’ کا نام دیا ہے۔
سائنسی جریدے انٹیلیجنس میں شائع تحقیق کے مطابق برطانیہ، امریکا اور دیگر ممالک میں ذہانت کے ٹیسٹوں کے نتائج میں کمی دیکھی گئی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ کمی جینیاتی تبدیلیوں کی بجائے ماحولیاتی عوامل کی وجہ سے ہو رہی ہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ تعلیمی نظام، جدید طرز زندگی اور ڈجیٹل ٹیکنالوجی پر انحصار ذہنی صلاحیتوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہتر غذائیت اور ماحولیات کے اثرات بھی ماضی میں ذہانت میں اضافے کا باعث بنے تھے۔
یہ مسئلہ صرف چند ممالک تک محدود نہیں، بلکہ مختلف ممالک میں مختلف وجوہات کی بنا پر یہ تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ ماہرین نے اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تعلیمی معیار اور پالیسیاں بہتر کرنے پر زور دیا ہے۔
یاد رہے کہ فلن ایفیکٹ نسل در نسل آئی کیو ٹیسٹ کے بہتر نتائج کا مظہر تھا، جو اب ‘ریورس فلن ایفیکٹ’ کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ مزید تحقیقات کے ذریعے اس موضوع کو بہتر سمجھنے کی کوشش جاری ہے۔















