سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے کینسر کے علاج کی 9 ادویات کو جعلی قرار دیا ہے، جس سے مریضوں کی صحت کو خطرہ لاحق ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناؤنیوز) کینسر کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی 9 ادویات کو جعلی اور غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری نے ان ادویات کو غیر معیاری اور غیر رجسٹرڈ قرار دیا ہے۔
جیو نیوز سے گفتگو میں ڈائریکٹر سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سید عدنان رضوی نے بتایا کہ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی رپورٹ کے فیصلے پر فوری ایکشن لیا گیا ہے۔ ان ادویات میں کینسر، ذیابیطس، ہیموفیلیا اور پارکنسن کی ادویات شامل ہیں۔
سید عدنان رضوی کا کہنا تھا کہ بعض کینسر ادویات میں فعال دوا موجود نہیں تھی، اور کئی ادویات پر ڈریپ رجسٹریشن نمبر بھی درج نہیں تھا۔ بعض آنکولوجسٹ مخصوص فارمیسیز کے نام پریسکرپشن پر درج کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جعلی اور غیر معیاری کینسر ادویات مریضوں کی زندگی کے لیے خطرہ ہیں۔ ان ادویات سے علاج مؤثر نہیں ہوتا اور بیماری کے بڑھنے کا خدشہ بھی بڑھتا ہے۔
یاد رہے کہ سندھ ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری کی جانب سے پہلے بھی مختلف ادویات کی جانچ پڑتال کی گئی ہے جس کے نتیجے میں کئی غیر معیاری ادویات کو بازار سے ہٹایا گیا ہے۔















