چینی روبوٹس نے بیجنگ کی میراتھون میں انسانی ایتھلیٹس کو پیچھے چھوڑ کر تیز رفتاری کا مظاہرہ کیا۔
بیجنگ: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ چینی کمپنیوں کے تیار کردہ درجنوں انسان نما روبوٹس نے دنیا کو حیران کر دیا۔ بیجنگ میں ہاف میراتھون ریس کے دوران ان روبوٹس نے انسانی ایتھلیٹس کو پیچھے چھوڑ کر اپنی مہارت کا مظاہرہ کیا۔
یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب انسانوں اور روبوٹس کی مشترکہ میراتھون منعقد ہوئی۔ گزشتہ سال روبوٹس کی کارکردگی کمزور تھی، وہ گرتے رہے۔ اس بار روبوٹس نے بہتر کارکردگی دکھائی۔
روبوٹس کی تعداد میں اس سال سو سے زائد اضافہ ہوا، جو گزشتہ سال 20 تھی۔ بیشتر روبوٹس پروفیشنل ایتھلیٹس سے زیادہ تیز تھے۔ جیتنے والے روبوٹ کو ایک اسمارٹ فون کمپنی نے تیار کیا تھا۔
اس روبوٹ نے میراتھون کا فاصلہ 50 منٹ 26 سیکنڈ میں طے کیا، جو گزشتہ ماہ لزبن میں Jacob Kiplimo کے ورلڈ ریکارڈ سے بہتر تھا۔ انسان نما روبوٹس کے متعدد فیچرز ابھی بھی آزمائشی مراحل میں ہیں۔
واضح رہے کہ چین روبوٹیکس کے شعبے میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ یہ روبوٹس خطرناک کاموں میں بھی استعمال ہو سکتے ہیں۔















