خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر و اراکین کی تنخواہوں میں اضافہ آئینی مسائل کی وجہ سے مؤخر، فنانس کمیٹی کو اختیار دینے کی ترمیم آج پیش کی جائے گی۔
پشاور: (رائیٹ ناوٴ نیوز) خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ آئینی مسائل کی وجہ سے مؤخر کر دیا گیا ہے۔ فنانس کمیٹی کی منظوری کے بغیر کیا گیا یہ فیصلہ آئین سے متصادم قرار دیا گیا، جس کے بعد ترمیمی ایکٹ تیار کر لیا گیا ہے جو آج اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق، خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافہ ایکٹ کے ذریعے کیا جاتا تھا اور اس کی منظوری ایوان سے لی جاتی تھی۔ ذرائع کے مطابق، جب اس تحریک کا جائزہ لیا گیا تو اسے آئین کے آرٹیکل 88 کی خلاف ورزی قرار دیا گیا۔
موجودہ صورتحال میں، حکام نے بتایا کہ چونکہ تنخواہیں مالیاتی امور کے زمرے میں آتی ہیں، اس لیے اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور اراکین کی تنخواہیں اور الاؤنس اسمبلی کے اخراجات میں شامل ہیں۔ مذکورہ آرٹیکل کے تحت تنخواہوں اور الاؤنس کی شرح کا تعین فنانس کمیٹی کرے گی۔
اس معاملے کی اہمیت یہ ہے کہ قانونی معیارات کی پاسداری کے بغیر اخراجات میں اضافہ آئینی بحران پیدا کر سکتا ہے۔ مجوزہ ترمیم کے تحت فنانس کمیٹی کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا فیصلہ کرے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی تنخواہوں، مراعات اور استحقاق ایکٹ 1975 میں ترمیم تیار کر لی گئی ہے جو منظوری کے بعد کابینہ میں بھیجی جائے گی۔














