ترک صدر اردوان نے اسرائیل کی جنگ کو عالمی بوجھ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ نیتن یاہو کی بقا کی جنگ ہے جس کا بوجھ آٹھ ارب انسان اٹھا رہے ہیں۔
انقرہ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ترک صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ ترکیے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے دوران محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے اور برادرانہ تعلقات کو برقرار رکھا جا رہا ہے۔ انقرہ میں کابینہ اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم اپنے لیے بچھائے گئے جال میں نہیں پھنس رہے اور آگ کے اس دائرے سے دور رہنے کا عزم رکھتے ہیں۔
ترک صدر نے کہا کہ یہ جنگ اسرائیل کی ہے مگر اس کی قیمت پوری دنیا ادا کر رہی ہے۔ یہ نیتن یاہو کی بقا کی جنگ ہے، لیکن اس کا بوجھ آٹھ ارب انسان اٹھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے امن اور انسانیت کے مفاد میں نیتن یاہو کی قیادت میں چلنے والے قتل عام کے نظام کو فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ ہر ملک کو جرات مندانہ مؤقف اختیار کرنا ہوگا اور اسرائیل کے سخت رویے سے سفارتی حل کی کوششوں کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترکیے ایران میں امن کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ کام جاری رکھے گا جبکہ امریکا اسرائیل کی ایران جنگ نے خطے کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جنگ سے توانائی کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور ترک معیشت کو ہونے والے نقصان کے سدباب کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔











