یونیسکو نے مشرق وسطیٰ میں تعلیمی اداروں پر حملوں کے نتائج پر تشویش ظاہر کی ہے، جہاں ایک اسکول پر حملے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
پیرس: (رائیٹ ناوٴ نیوز)اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسکو نے مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی کے تعلیمی اداروں، طلبہ اور تعلیمی عملے پر اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
یونیسکو کے مطابق ابتدائی اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی ایران کے شہر میناب میں ایک گرلز پرائمری اسکول پر حملے کے نتیجے میں 100 سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جن میں بڑی تعداد طالبات کی شامل ہے۔
UNESCO is deeply alarmed by the impact of the ongoing military escalation in the Middle East on educational institutions, students, and education personnel.
Initial reports indicate that an attack on a girls’ primary school in Minab, southern Iran, has resulted in the deaths of… pic.twitter.com/RGaqrUetFA
— UNESCO 🏛️ #Education #Sciences #Culture 🇺🇳 (@UNESCO) March 1, 2026
ادارے نے کہا کہ تعلیمی مقام پر زیر تعلیم بچوں کی ہلاکت بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت اسکولوں کو حاصل تحفظ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسکول تعلیم کے لیے مخصوص مقامات ہیں اور انہیں نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔
یونیسکو نے مزید کہا کہ تعلیمی اداروں پر حملے طلبہ اور اساتذہ کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور تعلیم کے بنیادی حق کو متاثر کرتے ہیں۔ ادارے نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2601 (2021) کا حوالہ دیتے ہوئے تمام فریقین کو اسکولوں، طلبہ اور تعلیمی عملے کے تحفظ کی ذمہ داری یاد دلائی۔
واضح رہے کہ مشرق وسطیٰ میں حالیہ فوجی کشیدگی کے دوران شہری تنصیبات کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جس پر عالمی ادارے تشویش ظاہر کر رہے ہیں۔














