عدلیہ کے ٹاپ سے پھیلتا اندھیرا پورا نظام گرفت میں لے چکا ہے۔ 92نیوز کے پروگرام مقابل میں عامر متین، نعیم حیدر پنجوتا اور محمد علی درانی کے مفصل گفتگو۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ’یہ کوئی ایک عام واقعہ نہیں بلکہ ایک گہرائی اور اندھیرا ہے جو اوپر سے شروع ہوا ہے، اور جب خرابی اوپر آ جائے تو اس کا اثر نیچے پوری عدلیہ میں نظر آتا ہے‘۔ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس طارق محمود جہانگیری کی برطرفی سے متعلق فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر صحافی عامر متین کا کہنا تھا کہ ’اسلام آباد ہائی کورٹ اس پورے بحران کا واٹر لو بن چکی ہے کیونکہ اس جنگ کی ابتدا بھی وہیں سے ہوئی تھی‘۔
92 نیوز ایچ ڈی کے پروگرام ’مقابل‘ میں ہونے والی اس گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور وکیل نعیم حیدر پنجوتا اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی مہمان تھے۔ پروگرام میں عدالتی بحران، سیاسی صورتحال، معاشی چیلنجز اور نیٹ میٹرنگ پالیسی پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔
جسٹس جہانگیری کیس اور عدالتی بحران
عامر متین نے کہا کہ ’26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے بعد ایگزیکٹو کا کنٹرول عدالتی نظام پر حاوی ہو چکا ہے، اور اس کے روز نئے شاخسانے سامنے آ رہے ہیں‘۔ ان کے مطابق ’سپریم کورٹ کے اندر اس وقت مختلف قسم کی عدالتیں بن چکی ہیں اور آئین پر نہیں بلکہ اس بات پر لڑائیاں ہو رہی ہیں کہ کون کہاں بیٹھے گا اور پروٹوکول کیا ہوگا‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’جسٹس جہانگیری کا کیس 160 کی رفتار سے چلایا گیا، حالانکہ اصولی طور پر اعتراضات سنے جانے چاہییں تھے‘ اور ’34 سال پرانی ڈگری کا معاملہ اس وقت نکالا گیا جب ان کی ریٹائرمنٹ میں چند سال باقی تھے‘۔
اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے کہا کہ ’یہ ایک دکھ بھری تاریخ ہے جو طاقت کی پوجا کرنے والے نظام سے بھری ہوئی ہے، جہاں برائی اب شرمندگی نہیں بلکہ کامیابی کا معیار بنتی جا رہی ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان کی 76 سالہ تاریخ چند برسوں میں فاسٹ فارورڈ ہو کر ہمارے سامنے آ گئی ہے، مگر فرق یہ ہے کہ اب عوام خاموش نہیں ہیں اور اس نظام کو ریجیکٹ کر رہے ہیں‘۔
پی ٹی آئی کے رہنما اور وکیل نعیم حیدر پنجوتھا نے قانونی پہلو واضح کرتے ہوئے کہا کہ ’آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کسی جج کے خلاف کارروائی کا اختیار صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس ہے، کسی عدالت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے ہی ایک جج کو گھر بھیج دے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ معاملہ اس وقت اٹھایا گیا جب جسٹس جہانگیری دباؤ میں نہیں آئے اور جیسے ہی وہ بعض حساس معاملات کی طرف بڑھے، ان کی 34 سال پرانی ڈگری کو بنیاد بنا کر کارروائی شروع کر دی گئی‘۔
بار ہڑتال اور وکلا کا کردار
اسلام آباد بار کی ہڑتال پر سوال اٹھاتے ہوئے عامر متین نے کہا کہ ’یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا یہ ہڑتال بامعنی ثابت ہو پائے گی یا نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’جب ججوں کے خلاف ایسے فیصلے ہوں گے تو وکلا کا ردعمل بھی محض رسمی نہیں بلکہ نتیجہ خیز ہونا چاہیے‘۔
اسلام آباد بار کی ہڑتال اور وکلا کے کردار پر بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے رہنما اور وکیل نعیم حیدر پنجوتھا نے سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’جب جسٹس جہانگیری سڑکوں پر تھے تو چند وکیل ہی ان کے ساتھ کھڑے تھے، باقی سب خاموش رہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’پاکستان بار کونسل میں جس طرح پیسے لگا کر ممبران خریدے گئے، وہ سب کے سامنے ہے، اور جب وکیل خود پلاٹوں اور پیسوں کے چکر میں ہوں تو ملک میں انصاف قائم نہیں ہو سکتا‘۔
جب کہ محمد علی درانی نے طاقت اور انصاف کے عدم توازن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ’یہاں مرغی چور تو پکڑا جاتا ہے لیکن ہاتھی چور اسی ہاتھی پر بیٹھ کر آپ پر حکمرانی کرتا ہے‘۔
جج کے بیٹے کا حادثہ اور سماجی اثرات
جج کے بیٹے سے منسوب ٹریفک حادثے پر گفتگو کرتے ہوئے عامر متین نے کہا کہ ’یہ واقعہ ہر ایک کے لیے تکلیف دہ ہے کہ بغیر لائسنس گاڑی چلانے والے بچے نے دو بچیوں کو کچل دیا اور چند گھنٹوں میں بری ہو گیا‘۔انہوں نے مزید کہا کہ ’بعد میں یہ بھی سامنے آیا کہ گاڑی نان کسٹم پیڈ تھی، اور ایسے واقعات جب عدلیہ سے جڑ جائیں تو پورے معاشرے پر اس کے منفی اثرات پڑتے ہیں‘۔
اس حوالے سے نعیم حید ر نے بات کرے ہوئے کہا کہ نعیم حیدر پنجوتھا کے مطابق ’ایسے واقعات اسی نظام کی پیداوار ہوتے ہیں جہاں طاقت اور اثر و رسوخ قانون سے بالاتر ہو جائیں‘۔
سیاسی مفاہمت کے امکانات
سیاسی رابطوں کے دعوؤں پر بات کرتے ہوئے عامر متین نے کہا کہ ’سیاسی مفاہمت کے حوالے سے مختلف شوشے چھوڑے جا رہے ہیں اور بعض رہنماؤں کے نام لیے جا رہے ہیں‘۔ ان کا مٰزید کہنا تھا کہ ’یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ رابطے واقعی کسی نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں یا محض فضا بنانے کی کوشش ہے‘۔
سیاسی مفاہمت کے امکان پر گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے طنزیہ انداز میں کہا کہ ’اگر واقعی مفاہمت کرنی ہے تو پھر سب اپوزیشن کو اکٹھا کریں، ورنہ بہتر ہے کہ نواز شریف کو بلا کر جاتی عمرہ میں کانفرنس کروا لی جائے‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’حکومت کو بلا کر کانفرنس کرنے سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا، کیونکہ 26ویں اور 27ویں ترمیم کے بعد نہ آئین بچا ہے اور نہ ہی 18ویں ترمیم کی اصل روح‘۔
پی ٹی آئی کے رہنما اور وکیل نعیم حیدر پنجوتھا نے سیاسی رابطوں سے متعلق واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’عمران خان نے بات چیت کا مینڈیٹ صرف محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو دیا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’جو لوگ پی ٹی آئی چھوڑ کر دوسری جماعتوں میں چلے گئے تھے، ان کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں، خان صاحب کی ہدایت ہے کہ تحریک پر فوکس رکھا جائے اور دباؤ برقرار رکھا جائے‘۔
معیشت، سرمایہ کاری اور نیٹ میٹرنگ
معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے عامر متین نے کہا کہ ’گوہر اعجاز کا یہ کہنا کہ دبئی میں پاکستانیوں کی سرمایہ کاری 100 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، ایک انتہائی سنجیدہ سوال کھڑا کرتا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر یہی سرمایہ پاکستان میں ہوتا تو معیشت کی شرح نمو کہیں بہتر ہو سکتی تھی، مگر موجودہ معاشی ماڈل درست سمت میں نہیں‘۔
نیٹ میٹرنگ پالیسی پر عامر متین کا کہنا تھا کہ ’نیٹ میٹرنگ کا نظام ختم کرنا عوام کے ساتھ دھوکہ ہے‘ اور ’دنیا گرین انرجی کی طرف جا رہی ہے جبکہ ہم سولر لگانے والوں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’لاہور میں سموگ کے ریکارڈ ٹوٹ رہے ہیں مگر حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی ٹھوس منصوبہ نظر نہیں آتا‘۔

![عدلیہ پر کنٹرول اور سیاسی بحران پر سخت سوالات [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/13032_2025-12-19_08-01-07.webp)












