اسرائیلی ایجنٹوں نے کس طرح ایرانی جوہری سائنسدانوں کو شناخت کیا اور کیسے ان کو نشانہ بنایا گیا؟ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے ہونے والے حملوں کی کہانی
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اصل سوال یہ نہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو نقصان کتنا شدید ہے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ایران اس نقصان سے نکل کر اپنا جوہری پروگرام دوبارہ فعال کر سکتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے بارہ روزہ فضائی اور میزائل حملوں کے بعد یہی سوال عالمی سفارتی، دفاعی اور جوہری نگرانی کے حلقوں میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی اہم جوہری تنصیبات کو “مکمل اور مکمل طور پر تباہ” کر دیا گیا ہے، جبکہ ایرانی قیادت اس دعوے کو یکسر مسترد کر رہی ہے۔
اسی پس منظر میں امریکی نشریاتی ادارے پی بی ایس کی تحقیقی ڈاکومینٹری “Strike on Iran: The Nuclear Question” میں حملوں کے بعد کے زمینی حقائق، سیٹلائٹ شواہد، فرانزک تجزیات، انٹیلی جنس معلومات اور اعلیٰ سطحی انٹرویوز کی بنیاد پر یہ جاننے کی کوشش کی گئی کہ ایران کے جوہری پروگرام کو حقیقت میں کتنا نقصان پہنچا ہے۔
ڈاکومینٹری میں فورڈو، نطنز اور اصفہان کی جوہری تنصیبات، ایرانی جوہری سائنس دانوں کی ہلاکتیں، اسرائیلی انٹیلی جنس آپریشنز، عالمی جوہری توانائی ایجنسی کا مؤقف، اور ایک نئی زیرِ زمین تنصیب کوہِ کلنگ گاز لا میں سرگرمیوں جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔
اسرائیلی انٹیلی جنس آپریشن اور جوہری سائنس دانوں کی ہدف بندی
ڈاکومینٹری میں پیش کی گئی معلومات کے مطابق اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو صرف تنصیبات تک محدود نہیں رکھا بلکہ اس کے انسانی ڈھانچے کو بھی براہِ راست نشانہ بنایا۔ اسرائیلی انٹیلی جنس کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ یہ کارروائی برسوں کی منصوبہ بندی کا نتیجہ تھی۔
اس اہلکار کے مطابق، ’ہم نے تقریباً ایک سو جوہری سائنس دانوں کے روزمرہ کے معمولات کا تفصیلی تجزیہ کیا، ان کی مہارت، کردار اور سرگرمیوں کا جائزہ لیا، اور پھر بارہ ایسے افراد کی نشاندہی کی جو پروگرام کے لیے سب سے زیادہ اہم سمجھے جاتے تھے۔‘
اس منصوبے کے تحت اسرائیلی ایجنٹوں اور مقامی نیٹ ورکس کے ذریعے ان سائنس دانوں کی رہائش گاہوں اور معمولات کی تفصیل اکٹھی کی گئی۔ ڈاکومینٹری کے مطابق ان بارہ میں سے گیارہ سائنس دان مختلف فضائی اور میزائل حملوں میں مارے گئے، جبکہ ایک سائنس دان ابتدائی مرحلے میں بچ نکلنے میں کامیاب ہوا، تاہم بعد میں شمالی ایران کے ایک قصبے میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہو گیا۔
اسرائیلی اہلکار کا کہنا تھا، ’چونکہ علم کسی بھی جوہری ہتھیار سازی کے پروگرام کا بنیادی اثاثہ ہوتا ہے، اس لیے ان سائنس دانوں کی ہلاکت ایک بڑا دھچکا ہے۔‘
رہائشی علاقوں میں حملے اور شہری ہلاکتیں
تحقیقات کے مطابق تہران کے مختلف رہائشی علاقوں میں ہونے والے ان حملوں میں عام شہری بھی مارے گئے۔ سعادت آباد کے علاقے میں ایک حملے میں کئی منزلہ عمارت مکمل طور پر تباہ ہو گئی، جہاں ایک جوہری سائنس دان کے ساتھ اس کے اہل خانہ اور دیگر رہائشی بھی جان سے گئے۔
واشنگٹن پوسٹ، بیلنگ کیٹ اور ایویڈنٹ میڈیا کے فرانزک تجزیے کے مطابق اس حملے میں تقریباً پانچ سو پاؤنڈ بم کے برابر دھماکہ خیز طاقت استعمال ہوئی۔ مقامی رہائشیوں نے بتایا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ان کے پڑوس میں رہنے والا فرد جوہری پروگرام سے وابستہ ہے۔
فوردو، نطنز اور اصفہان: جوہری تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان
ڈاکومینٹری میں سیٹلائٹ تصاویر اور ماہرین کے تجزیے کے ذریعے بتایا گیا کہ ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات کو غیر معمولی نقصان پہنچا۔ نطنز میں زیرِ زمین سینٹری فیوج ہالز کو بنکر بسٹنگ بموں سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ اس سے قبل بجلی کے نظام کو تباہ کر کے سینٹری فیوجز کو غیر مستحکم کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق بجلی کی اچانک بندش سینٹری فیوجز کے لیے نہایت تباہ کن ہوتی ہے کیونکہ یہ تیز رفتاری سے گھومنے والی مشینیں اچانک رکنے پرتباہ ہوسکتی ہیں۔
فوردو، جو پہاڑ کے اندر گہرائی میں واقع ہے، امریکی حملوں کا سب سے بڑا ہدف بنا۔ امریکی حکام کے مطابق یہاں بارہ بنکر بسٹنگ بم Massive Ordnance Penetrators گرائے گئے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بم براہِ راست سینٹری فیوج ہالز تک پہنچے یا نہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ قریب دھماکے بھی اندرونی نظام کو شدید نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔
اصفہان میں ایران کی سب سے بڑی یورینیم کنورژن سہولت کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بارے میں امریکی فرانزک تجزیہ کاروں نے کہا کہ یہ مرکز “تقریباً مکمل طور پر غیر فعال” ہو چکا ہے۔
ایرانی جوہری ادارے کے سربراہ محمد اسلامی کا مؤقف
ڈاکومینٹری میں ایران کی جوہری توانائی تنظیم کے سربراہ محمد اسلامی نے سائنس دانوں کی ہلاکت اور تنصیبات کو پہنچنے والے نقصان پر ایرانی مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے امریکی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ نہیں ہوا۔
محمد اسلامی کا کہنا تھا کہ جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے، لیکن بنیادی صلاحیت باقی ہے اور ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کو جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ ایران کا جوہری پروگرام ہتھیار بنانے کے لیے ہے۔
جوہری پالیسی اور مستقبل،علی لاریجانی کا مؤقف
ڈاکومینٹری میں ایرانی قومی سلامتی اور جوہری پالیسی سے متعلق فیصلوں میں کلیدی کردار رکھنے والے علی لاریجانی کا بھی انٹرویو شامل تھا، جو بارہ روزہ جنگ کے بعد ان کا پہلا عوامی انٹرویو بتایا گیا۔
علی لاریجانی نے واضح کیا کہ امریکی صدر کا یہ دعویٰ درست نہیں کہ ایران کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران نے کبھی جوہری ہتھیار بنانے کا اعلان نہیں کیا اور آئندہ بھی ایسا کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
کوہِ کلنگ گاز لا سے متعلق سوال پر انہوں نے اس مقام کی نوعیت پر براہِ راست تفصیل دینے سے گریز کیا، تاہم اس بات کی تردید نہیں کی کہ وہاں سرگرمیاں جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اپنی قومی سلامتی سے متعلق معاملات پر دباؤ قبول نہیں کرے گا۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی کا محتاط اندازہ
عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے سربراہ رافائل گروسی نے ڈاکومینٹری میں کہا کہ ایران کی جوہری تنصیبات کو پہنچنے والا نقصان “بہت زیادہ” ہے، لیکن حتمی تشخیص کے لیے براہِ راست معائنہ ضروری ہے۔
رافائل گروسی کے مطابق، ’ہمارا اندازہ یہ ہے کہ نقصان بہت نمایاں ہے، لیکن جب تک ہمیں ان مقامات تک رسائی نہیں ملتی، کسی بھی تشخیص کو مکمل نہیں کہا جا سکتا۔‘
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایجنسی کو حملوں سے قبل ان تنصیبات کے اندر موجود ڈھانچے اور مواد کا علم تھا، مگر حملوں کے بعد معائنہ نہ ہونے سے کئی سوالات بدستور موجود ہیں۔
کوہِ کلنگ گاز لا اور بحالی کا امکان
ایران کے دوبارہ کھڑا ہونے کے سوال میں سب سے اہم اور تشویشناک عنصر کوہِ کلنگ گاز لا ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق اس پہاڑ کے اندر ایک زیرِ زمین تنصیب کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ وسعت بھی دی جا رہی ہے۔ وہاں نئی سکیورٹی دیواریں، اضافی سرنگیں، بھاری مشینری اور داخلی راستوں کو مضبوط کیے جانے کے آثار دیکھے گئے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مقام سینٹری فیوجز کی تیاری، یورینیم کی افزودگی یا افزودہ یورینیم کے ذخیرے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ ایک تجزیہ کار کے مطابق، ’اگر واقعی وہاں سینٹری فیوجز کی تیاری ہو رہی ہے تو ایران نسبتاً کم وقت میں دوبارہ بحالی کی صلاحیت حاصل کر سکتا ہے۔‘
ایرانی جوہری پروگرام کی مستقل تباہی یا عارضی رکاوٹ؟
دستیاب شواہد کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان ضرور پہنچا ہے، خاص طور پر انسانی وسائل اور بعض کلیدی تنصیبات کے حوالے سے۔ تاہم خفیہ اور گہرائی میں واقع تنصیبات، باقی ماندہ افزودہ یورینیم، اور کوہِ کلنگ گاز لا جیسے مقامات پر سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ایران مکمل طور پر مفلوج نہیں ہوا۔
عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے مطابق نقصان “بہت زیادہ” ہے، مگر آیا یہ نقصان مستقل ہے یا محض عارضی، اس کا انحصار آنے والے دنوں میں معائنے، انٹیلی جنس معلومات اور زمینی حقائق پر ہو گا۔ فی الحال یہ سوال برقرار ہے کہ کیا ایران اس نقصان سے نکل کر دوبارہ کھڑا ہو سکتا ہے۔

![ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے اثرات [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/12538_2025-12-18_05-49-33.webp)










