فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ممکنہ امریکی دورے پر غزہ امن فورس میں پاکستان کے کردار پر غور، پی آئی اے کی نجکاری اور پاکستانیوں کی ڈی پورٹیشن پر گفتگو۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کے ممکنہ دورۂ امریکہ سے متعلق سامنے آنے والی غیر مصدقہ خبر میں سب سے زیادہ حساس پہلو غزہ میں مجوزہ آئی ایس ایف امن فورس میں پاکستان کی ممکنہ شمولیت اور حماس سے ہتھیار ڈلوانے کے معاملے سے جڑا ہوا ہے، جسے پاکستان کے لیے سفارتی، سیاسی اور داخلی سطح پر ایک نہایت نازک معاملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
92 نیوز کے پروگرام ’مقابل‘ میں اس معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی عامر متین نے کہا کہ اگرچہ یہ خبر بین الاقوامی خبر رساں ادارے رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے شائع کی ہے، تاہم اب تک پاکستان کے دفترِ خارجہ، آئی ایس پی آر، وزارتِ اطلاعات یا وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس کی کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
عامر متین نے کہا کہ، ’اس خبر کا سب سے حساس پہلو یہ ہے کہ بات غزہ میں امن فورس کے قیام اور اس میں پاکستان کے ممکنہ کردار سے جڑی ہے، خاص طور پر حماس کو غیر مسلح کرنے کا معاملہ پاکستان کے لیے ایک سرخ لکیر کی حیثیت رکھتا ہے۔‘عامر متین نے جنوبی ایشیا امور کے ماہر مائیکل کگل مین کے تجزیے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر غزہ امن فورس کے معاملے پر پاکستان سے بات کی جاتی ہے تو اسلام آباد پر دباؤ بڑھ سکتا ہے، کیونکہ پاکستان امریکی سرمایہ کاری اور سکیورٹی تعاون کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بہتر رکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا سرکاری مؤقف اسحاق ڈار اور دفتر خارجہ کے بیانات کے مطابق یہی رہا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کی امن فورسز میں حصہ تو لے سکتا ہے، مگر حماس کو غیر مسلح کرنے کے کسی عمل میں شامل نہیں ہوگا۔ عامر متین کے مطابق حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے اسرائیلی کارروائیوں پر سخت موقف اختیار کیا، جس کے تناظر میں اس خبر پر مزید سوالات اٹھتے ہیں۔
اس خبر کے علاوہ پروگرام میں قومی ایئرلائن پی آئی اے اور پاکستان اسٹیل ملز کی نجکاری کے حکومتی فیصلے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس طارق جہانگیری کے مبینہ جعلی ڈگری کیس میں آئینی عدالت سے رجوع، اور بھیک مانگنے پر ہزاروں پاکستانیوں کی ڈی پورٹیشن جیسے حساس معاملات پر بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔ پروگرام کی میزبانی ربیعہ حسن نے کی، جبکہ سینئر صحافی عامر متین، پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور، پاکستان اسٹیل ملز اسٹیک ہولڈرز گروپ کے کنوینر ممریز خان اور 92 نیوز کے نمائندہ خصوصی ریاض الحق بطور مہمان شریک ہوئے۔
پی آئی اے کی مکمل نجکاری اور اعتراضات
پروگرام میں پی آئی اے کی نجکاری کے فیصلے پر تفصیلی بحث کی گئی۔ عامر متین نے کہا کہ حکومت نے قومی ایئرلائن کی مکمل نجکاری کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت پچھتر فیصد حصص کی بولی اگلے ہفتے لگائی جائے گی، جبکہ باقی پچیس فیصد حصص گرین شو آپشن کے تحت ایک ماہ بعد خریدے جا سکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت صرف سات اعشاریہ پانچ فیصد رقم نقد وصول کرے گی، جبکہ بقیہ سرمایہ کاری کی صورت میں ایئرلائن میں شامل ہوگی۔ عامر متین کے مطابق اس ماڈل میں کئی ابہامات ہیں، جن میں یہ سوال شامل ہے کہ سرمایہ کاری کے خدوخال کیا ہوں گے اور اگر اہداف پورے نہ ہوئے تو ذمہ داری کس پر ہوگی۔
چوہدری منظور نے کہا کہ پیپلز یونٹی آف پی آئی اے نے تئیس دسمبر کو ملک گیر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ ان کے مطابق پی آئی اے کو دو کمپنیوں میں تقسیم کیا گیا ہے، ایک آپریٹنگ کمپنی اور دوسری ہولڈنگ کمپنی، جبکہ اثاثے اور واجبات الگ کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پی آئی اے کے پاس اس وقت بانوے بین الاقوامی لینڈنگ روٹس ہیں، یورپی پابندیاں ختم ہو چکی ہیں اور برطانیہ سے ایئرلائن کی آمدن کا بڑا حصہ آتا ہے۔ چوہدری منظور کے مطابق گزشتہ سال تیرہ طیاروں کے ساتھ پی آئی اے نے چھبیس ارب روپے آپریشنل منافع کمایا۔
چوہدری منظور نے کہا کہ دنیا کی اسی فیصد ایئرلائنز لیز پر طیارے استعمال کرتی ہیں، جبکہ پی آئی اے کے زیادہ تر طیارے اس کی ملکیت ہیں۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سمیت کئی متبادل موجود ہیں، مگر اس کے باوجود نجکاری پر اصرار سمجھ سے بالاتر ہے۔
عامر متین نے بتایا کہ پی آئی اے کے پاس چونتیس طیارے موجود ہیں، جن میں سے اٹھارہ قابلِ پرواز ہیں، جبکہ ستانوے ممالک کے ساتھ ہوابازی معاہدے اور ایک سو ستر سے زائد لینڈنگ سلاٹس ایئرلائن کے بڑے اثاثے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھ سو چورانوے ارب روپے کے قرضے ہولڈنگ کمپنی کو منتقل کیے جا چکے ہیں۔
پاکستان اسٹیل ملز: بحالی یا نجکاری
پاکستان اسٹیل ملز کے حوالے سے ممریز خان نے کہا کہ دو ہزار چھ سے دو ہزار تئیس تک نجکاری غیر شفافیت کے باعث ممکن نہ ہو سکی۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ نے نجکاری پر پابندی نہیں لگائی تھی بلکہ شفافیت پر سوالات اٹھائے تھے۔
ممریز خان نے کہا کہ پاکستان اسٹیل مل دو ہزار آٹھ تک منافع میں تھی، مگر بعد ازاں ناقص گورننس اور غیر پیشہ ورانہ تقرریوں کے باعث اسے نقصان میں دھکیل دیا گیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایک مخصوص لابی کے مفادات کے لیے فیصلے کیے جا رہے ہیں، جبکہ ماضی کے نقصانات کی آج تک تحقیقات نہیں ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ روس کے ساتھ دوسرا پروٹوکول اور بینک ایبل انجینئرنگ ای سی بی کنٹریکٹ کی بات کی جا رہی ہے، مگر اصل مسئلہ احتساب اور پیشہ ورانہ انتظام ہے۔ ممریز خان کے مطابق اسٹیل مل کے وسائل سے اسے بحال کیا جا سکتا ہے اور ملازمین ایک اثاثہ ہیں۔
جسٹس طارق جہانگیری کا مبینہ جعلی ڈگری کیس
عدالتی تنازع پر بات کرتے ہوئے عامر متین نے کہا کہ جسٹس طارق جہانگیری نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو آئینی عدالت میں چیلنج کیا ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ہائی کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا اختیار نہیں تھا۔
انہوں نے بتایا کہ جسٹس جہانگیری نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے غیر رسمی گفتگو میں انہیں استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا، جو عدالتی ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ عامر متین کے مطابق جسٹس جہانگیری نے چیف جسٹس کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں باضابطہ شکایت بھی دائر کر دی ہے۔
ریاض الحق نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا غیر معمولی واقعہ ہے کہ ایک جج نے تحریری طور پر ساتھی جج پر ایسے الزامات عائد کیے ہوں۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے عدلیہ کے وقار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بھیک مانگنے پر پاکستانیوں کی ڈی پورٹیشن
ریاض الحق نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیوں کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ڈی جی ایف آئی اے نے انکشاف کیا ہے کہ ایک سال کے دوران اکیاون ہزار سے زائد پاکستانیوں کو مختلف ممالک سے ڈی پورٹ کیا گیا۔
ان کے مطابق سعودی عرب سے چوبیس ہزار، متحدہ عرب امارات سے چھ ہزار اور آذربائیجان سے ڈھائی ہزار پاکستانی بھیک مانگنے کے الزامات پر واپس بھیجے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ کئی افراد عمرے کے نام پر سفر کر کے یورپ جانے کی کوشش کرتے رہے، جبکہ جعلی کلبز اور جعلی سفری دستاویزات کے واقعات بھی سامنے آئے۔
ریاض الحق نے کہا کہ ڈی جی ایف آئی اے کا کھل کر حقائق بیان کرنا مثبت قدم ہے، مگر انہوں نے اس صورتحال کو غربت، بے روزگاری اور غیر قانونی ہجرت کے بڑھتے رجحان سے جوڑا۔
ثمینہ بیگ کا کارنامہ
پروگرام کے اختتام پرربیعہ احسن نے بتایا کہ پاکستانی کوہ پیما ثمینہ بیگ جنوبی قطب تک پہنچنے والی پہلی پاکستانی خاتون بن گئی ہیں۔ انہوں نے انٹارکٹیکا میں ایک سو گیارہ کلومیٹر کا مشکل اسکیئنگ سفر مکمل کیا اور پاکستان کا پرچم لہرایا۔
عامر متین نے بتایا کہ ثمینہ بیگ اس سے قبل ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والی پہلی پاکستانی خاتون بھی رہ چکی ہیں اور ساتوں براعظموں کی بلند ترین چوٹیاں سر کرنے کا اعزاز حاصل کر چکی ہیں۔

![پاکستانی رہنما کے ممکنہ امریکی دورے پر غزہ امن فورس سے بات چیت [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/12511_2025-12-18_03-17-53.webp)












