ڈی جی ایف آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ غیر قانونی سفر کی روک تھام کے باعث 51 ہزار افراد آف لوڈ کیے گئے جبکہ 56 ہزار کو ڈی پورٹ کیا گیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے اوورسیز پاکستانیز کے اجلاس میں ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ اس سال 51 ہزار پاکستانیوں کو آف لوڈ کیا گیا جبکہ 56 ہزار کو ڈی پورٹ کیا گیا، جن میں زیادہ تر کا تعلق بھیک مانگنے سے تھا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ سعودی عرب نے 24 ہزار، دبئی نے 6000 اور آذربائیجان نے 2500 پاکستانیوں کو بھیک مانگنے پر واپس بھیجا۔
ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ غیر قانونی سفر کی روک تھام کے لیے آف لوڈنگ کی جاتی ہے، جس کے باعث پاکستانی پاسپورٹ کی رینکنگ میں بہتری آئی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 24 ہزار افراد کمبوڈیا گئے جن میں 12000 واپس نہیں آئے، جبکہ برما میں گئے 2500 افراد بھی واپس نہیں آئے۔
اجلاس میں انکشاف ہوا کہ ایران کے بارڈر سے غیر قانونی طور پر جانے کی کوشش کرتے ہوئے 450 افراد کو پکڑا گیا۔ ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ 180 ایف آئی اے اہلکاروں کو بدعنوانی کی بنیاد پر برطرف کیا گیا اور 226 افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امی ایپلیکیشن جنوری کے وسط میں لانچ کی جائے گی، جس سے بیرون ملک جانے والے افراد روانگی سے 24 گھنٹے قبل امیگریشن کلیئرنس حاصل کر سکیں گے۔

![ڈی جی ایف آئی اے کا غیر قانونی سفر کی روک تھام پر زور [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/12205_2025-12-17_10-51-01.webp)












