ایران نے امریکی صدر ٹرمپ کے آبنائے ہرمز بند نہ کرنے کے دعوے کو مسترد کر دیا، حکام نے کہا کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو سنگین نتائج ہوں گے۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ مستقبل میں آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) بند نہ کرنے پر اتفاق کر چکا ہے۔ ایرانی حکام نے ٹرمپ کے بیانات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی کی گئی تو سنگین نتائج ہوں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جنگ بندی کے عرصے میں آبنائے ہرمز کھولنے کے بعد بیانات جاری کیے تھے۔ ان کے مطابق ایران نے مستقبل میں آبنائے کو کبھی بند نہ کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
ایرانی صدر کے ترجمان سید محمد مہدی طباطبائی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس’ پر بیان جاری کیا۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو مشروط اور محدود پیمانے پر کھولنا ایرانی اقدام ہے، جس کا مقصد مخالف فریق کے وعدوں کو آزمانا ہے۔
لفاظیهای توئیتری و اظهارات بیپایه دشمن، در جهت سلب احساس افتخار ملت ایران برای پیروزیهای بزرگی است که در دفاع مقتدرانه کسب کردهاند.
بازگشایی مشروط و محدود بخشی از تنگه هرمز ، صرفا ابتکاری ایرانی، مسئولیتآفرین و برای آزمون تعهدات قطعی طرف مقابل است. بدعهدی کنند، بد میبینند.— سيد مهدي طباطبايي (@tabaei1356) April 17, 2026
مہدی طباطبائی نے کہا کہ امریکی صدر کے بیانات کا مقصد ایرانی قوم سے ان کی کامیابیوں کا فخر چھیننا ہے جو انہوں نے اپنے ملک کے دفاع کے ذریعے حاصل کی ہیں۔
واضح رہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان آبنائے ہرمز کی بندش کے معاملے پر طویل عرصے سے کشیدگی جاری ہے۔ ایران نے ہمیشہ اپنے دفاع کے حق کا اعادہ کیا ہے۔














