اسلام آباد ہائی کورٹ نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کو متاثرین کو شامل کر کے سیٹلمنٹ معاہدے پر عملدرآمد کا حکم دیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ نے جناح گارڈن اور نیشنل اسمبلی ہاؤسنگ سوسائٹی سمیت مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیز کے الاٹیز کی درخواست کی سماعت کی۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز نے آپس میں سیٹلمنٹ کرلی ہے اور عدالت میں معاہدہ پیش کردیا۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے متاثرین کو ریلیف دیے بغیر سیٹلمنٹ معاہدے پر اظہار برہمی کیا اور کہا کہ متاثرین سالوں سے مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں جبکہ ہاؤسنگ سوسائٹیز نے آپس میں سیٹلمنٹ کرلیا۔ انہوں نے عدالت کے اختیار کی بات کرتے ہوئے کہا کہ توہین عدالت کی کارروائی کر کے سوسائٹیز کے ایگزیکٹیوز کو جیل بھیجا جا سکتا ہے۔
عدالت نے ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سو دن کا وقت دیا ہے تاکہ متاثرین کو شامل کر کے سیٹلمنٹ معاہدے پر عملدرآمد کرایا جا سکے۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے ہدایت کی کہ اس عرصے میں الاٹیز کو پلاٹ دے کر رپورٹ جمع کرائی جائے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ پہلے جوائنٹ وینچر معاہدہ کیا گیا تھا اور اب یہ نیا معاہدہ کرلیا گیا ہے۔ عدالت متاثرین کو سہولت دینے کی کوشش کر رہی ہے اور سوسائٹیز کے ایگزیکٹو کے خلاف کیس زیر سماعت ہے۔
وکیل ہاؤسنگ سوسائٹی نے کہا کہ سیٹلمنٹ معاہدے کی چھ شرائط پوری کرنی ہیں جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ شرائط پوری کرنا آپ کا کام ہے عدالت کا نہیں۔ عدالت نے ہدایات کے ساتھ کیس کی سماعت 4 اپریل تک ملتوی کردی۔

![اسلام آباد ہائی کورٹ کی ہاؤسنگ سوسائٹیز کو سیٹلمنٹ معاہدے میں متاثرین کو شامل کرنے کی ہدایت [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/11882_2025-12-16_10-31-09.webp)












