سپریم کورٹ کا سندھ پولیس سینیارٹی کیس میں اہم فیصلہ

سپریم کورٹ نے سندھ پولیس افسران کی سینیارٹی کیس میں سندھ سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھ کر حکومت سندھ کی اپیلیں مسترد کر دیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
سپریم کورٹ کا سندھ پولیس سینیارٹی کیس میں اہم فیصلہ [Draft]

اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز)

سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ پولیس افسران کی سینیارٹی سے متعلق کیس میں اہم فیصلہ سنادیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے سندھ پولیس افسران کی سینیارٹی سے متعلق دائر اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سندھ سروس ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد فیصلہ سنایا اور کہا کہ سینیارٹی کی بحالی متاثرہ افسران کا آئینی حق ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا کہ 2019 سے قبل والی سینیارٹی کو بحال رکھنے کا حکم درست ہے اور حکومت سندھ کی جانب سے دائر تمام اپیلیں خارج کردی گئی ہیں۔ فیصلے کے مطابق متاثرہ افسران بروقت ترقی کے لیے اہل ہوں گے کیونکہ سروس اسٹرکچر میں سینیارٹی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق کیس کا تعلق 1990 میں بھرتی ہونے والے اسسٹنٹ سب انسپکٹرز کی سینیارٹی سے تھا جنہیں 1991 میں سیاسی بنیادوں پر ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے بتایا کہ 1994 میں اس وقت کے آئی جی سندھ نے افسران کو ان کی ابتدائی تقرری کی تاریخ سے بحال کیا تھا۔

فیصلے میں کہا گیا کہ بحالی کے وقت افسران کو مالی فوائد نہیں دیے گئے تھے تاہم ان کی اصل سینیارٹی برقرار رکھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ 2019 کی سینیارٹی لسٹ میں افسران کی تقرری کی تاریخ تبدیل کردی گئی جبکہ متاثرہ افسران کو شوکاز نوٹس بھی جاری نہیں کیا گیا جو قانون کے منافی تھا۔

حکومت سندھ کی جانب سے استدعا کی گئی تھی کہ افسران کی سینیارٹی 1990 کے بجائے 1991 اور 1992 کی تقرریوں سے منسلک کی جائے، تاہم سندھ سروس ٹریبونل نے 2019 کی سینیارٹی لسٹ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے افسران کی سینیارٹی 1990 سے بحال کرنے کا حکم دیا تھا، جسے سپریم کورٹ نے درست قرار دیا۔

دیگر متعلقہ خبریں