سڈنی فائرنگ واقعے کے بعد پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا اور جنرل فیض حمید کی سزا پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
پروگرام کے آغاز میں عاصمہ شیرازی نے سڈنی کے بونڈئی بیچ پر فائرنگ کے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں تقریباً پندرہ افراد ہلاک ہوئے۔ میزبان نے زور دیا کہ کسی بھی واقعے میں انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کیا جانا چاہیے، خواہ متاثرین کسی بھی مذہب یا قوم سے تعلق رکھتے ہوں۔
میزبان کے مطابق واقعے کے فوراً بعد ایک منظم پروپیگنڈا مہم شروع ہوئی، جس میں حملہ آوروں کے ناموں کو بنیاد بنا کر پاکستان کو نشانہ بنایا گیا۔ اسما شیرازی نے کہا کہ ایک ایسا نیٹ ورک متحرک ہوا جو پہلے بھی پاکستان کے خلاف سرگرم رہا ہے، اور اس مہم میں افغان، بھارتی اور اسرائیلی میڈیا کا کردار نمایاں نظر آیا۔
ابتدائی معلومات کے بعد سامنے آنے والی تفصیلات کا حوالہ دیتے ہوئے اسما شیرازی نے کہا، ’’یہ سوال اب اٹھ رہا ہے کہ جو حملہ آور تھے، ان کا تعلق بھارت سے بتایا جا رہا ہے، اور کہا جا رہا ہے کہ یہ حملہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا۔‘‘
انہوں نے اس نکتے کو اس وسیع تناظر میں رکھا جس میں بھارت کی جانب سے دوسروں پر دہشت گردی کے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں۔
گفتگو کے دوران میزبان نے احمد ال احمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ شخص جس نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر وہاں موجود لوگوں کو بچایا، اس وقت دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ اسما شیرازی کے مطابق، ’’احمد ال احمد اس وقت عالمی ہیرو کے طور پر دیکھے جا رہے ہیں، لوگ دنیا بھر سے انہیں انعامی رقوم بھیج رہے ہیں۔‘‘
جنرل فیض حمید کے نیٹ ورک میں کون کون شامل تھا؟
پروگرام کے اگلے حصے میں میزبان نے پاکستان کی سیاسی صورتحال کی طرف رخ موڑا، خاص طور پر جنرل فیض حمید سے متعلق فیصلے پر۔ میزبان نے کہا کہ جمعرات کو جنرل فیض کے حوالے سے چودہ سال کی سزا کا فیصلہ آیا، جس کے بعد سے اس پر مسلسل بحث جاری ہے۔ پروگرام میں کہا گیا کہ ان کے نیٹ ورک کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں، جن میں مختلف شخصیات کے نام لیے جا رہے ہیں۔
عاصمہ شیرازی کے مطابق اس نیٹ ورک میں “کون کون سے جج تھے، کون کون سے جنرل تھے، کون کون سے جرنلسٹ تھے، کون کون سے سوشل میڈیا انفلوئنسرز تھے، کون کون سے یوٹیوبر تھے”، اس پر بات ہو رہی ہے۔ میزبان نے کہا کہ یہ “ایک پوری کہانی” ہے اور اس کہانی کی کتاب کا نام “جنرل فیض” بتایا گیا، جس کے بارے میں کہا گیا کہ ابھی یہ پوری کتاب کھلنی باقی ہے۔
خواجہ آصف کے بیانات
اسی سلسلے میں میزبان نے بتایا کہ وفاقی وزیر خواجہ آصف نے اس معاملے پر گفتگو کی اور کچھ اشارے دیے۔ ان کے بیانات پروگرام میں سنوائے گئے۔ خواجہ آصف نے کہا:
“پراجیکٹ عمران خان کو لانے کے پیچھے پہلے اور بھی شخصیات کام کرتی رہی، عمل درآمد جنرل فیض کی سربراہی میں اور ان کی سپرویژن میں شروع ہوا۔”
انہوں نے مزید کہا:
“عمران خان کو آج بھی جو سازشی عناصر ڈراپ اپ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، عمران خان کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ سارے کے سارے بیج فیض نے بوئے۔”
خواجہ آصف نے پارلیمنٹ کے کردار پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ “پارلیمنٹ کو آئی ایس آئی کا اس وقت جنرل فیض کی سربراہی میں ایک ذیلی ادارہ بنا دیا گیا تھا۔”
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مزید مسائل اور چارجز ہیں جن پر قانونی کارروائی کی جائے گی اور اس میں زیادہ دیر نہیں لگے گی۔
قانونی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے بتایا کہ جنرل فیض حمید کے خلاف کارروائی کا آغاز معیز خان کی سپریم کورٹ میں دائر درخواست سے ہوا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اس درخواست میں فیض حمید پر گھر پر چھاپے، اہلِ خانہ کی توہین اور دیگر سنگین الزامات لگائے گئے، جس کے بعد وزارتِ دفاع نے فوجی قوانین کے تحت انکوائری شروع کی۔
انعام الرحیم کے مطابق فوجی نظام میں شکایت آنے پر پہلے کورٹ آف انکوائری ہوتی ہے، پھر سفارشات کی بنیاد پر’ سمری آف ایویڈنس‘ تیار کی جاتی ہے، جس میں تمام شواہد حلفاً ریکارڈ ہوتے ہیں اور ملزم کو جرح اور بیان کا حق دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل فیض نے اپنی سمری میں بعض امور تسلیم بھی کیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتاری کے بعد جنرل فیض کے لیپ ٹاپ اور ریکارڈ سے بڑی تعداد میں کلاسفائیڈ اور فار آئیز اونلی دستاویزات برآمد ہوئیں، جو کسی بھی صورت میں ان کے پاس نہیں ہونی چاہئیں تھیں۔ انعام الرحیم کے مطابق یہ ایک سنگین جرم تھا، خاص طور پر اس لیے کہ ریٹائرمنٹ کے وقت جنرل افسران تحریری طور پر تصدیق کرتے ہیں کہ ان کے پاس کوئی خفیہ دستاویز موجود نہیں۔
ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے کہاکہ ’’یہ ایک سنگین جرم (ہنئیس کرائم )ہے کہ کوئی ٹاپ سیکرٹ آپریشنل پلان اپنے پاس رکھے۔ ان کے اپنے سرٹیفیکیٹ کے باوجود یہ مواد برآمد ہونا بہت بڑا جرم ہے۔‘‘
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس کیس میں مخصوص الزامات پر ہی ٹرائل کیا گیا، اس لیے دیگر معاملات جیسے سیاسی مداخلت یا 9 مئی کے واقعات کو اس ٹرائل میں شامل نہیں کیا گیا، تاہم اگر مزید شواہد پر کمپیٹنٹ اتھارٹی فیصلہ کرے تو الگ ٹرائل ممکن ہے۔
یوٹیوبرز سے روابط اور 9 مئی کے مفرور ملزمان کی معاونت
انعام الرحیم نے گفتگو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کے علم میں آنے والی معلومات کے مطابق جنرل فیض مختلف سیاسی شخصیات، یوٹیوبرز اور 9 مئی کے بعد مفرور عناصر سے رابطے میں تھے، اور بعض افراد کو ان کے فارم ہاؤس پر پناہ بھی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام شواہد دستاویزی ہیں اور ان کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی ممکن ہے۔
ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی سےحاصل کی گئی گاڑیاں کس جج کو دی گئیں؟
عاصمہ شیرازی نے گفتگو کے دوران ایڈووکیٹ انعام الرحیم سے براہِ راست سوال کیا کہ یہ بات زیرِ بحث آ رہی ہے کہ ٹاپ سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی سے مبینہ طور پر حاصل کی گئی قیمتی گاڑیاں عدلیہ کی کسی شخصیت تک بھی پہنچیں، تو وہ واضح کریں کہ یہ گاڑیاں کس کو دی گئیں۔
اس سوال کے جواب میں ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے کہا کہ ان کے علم میں آنے والی معلومات اور صحافتی انکشافات کے مطابق ٹاپ سٹی کیس میں برآمد ہونے والی دو قیمتی گاڑیاں اُس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کو دی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک گاڑی جسٹس ثاقب نثار کے ذاتی استعمال میں رہی جبکہ دوسری گاڑی ان کے بیٹے کو دی گئی۔
ایڈووکیٹ انعام الرحیم کے مطابق یہ معاملہ اس وقت منظرِ عام پر آیا جب صحافی فخر درانی کو اطلاع ملی اور انہوں نے خود اس بارے میں جسٹس ثاقب نثار سے رابطہ کیا۔ انعام الرحیم نے بتایا کہ اس رابطے اگرچہ خبر کی تردید کی توقع کی جا رہی تھی، تاہم ان کے بقول اس کی باضابطہ تردید سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں، جب ٹاپ سٹی کیس میں کارروائی آگے بڑھی تو متعلقہ اداروں نے ان گاڑیوں کو تحویل میں لیا اور ایک گاڑی جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے سے واپس لے کر کیس کا حصہ بنائی گئی۔
عاصمہ شیرازی نے اس جواب پر گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ اگر اس نوعیت کے الزامات اور شواہد ریکارڈ کا حصہ ہیں تو شفاف تحقیقات کی صورت میں یہ معاملات مزید وضاحت کے ساتھ سامنے آ سکتے ہیں، اور یہی وہ سوالات ہیں جو اس پورے کیس کو غیر معمولی بناتے ہیں۔
جنرل باجوہ کے ٹرائل سے متعلق سوال — پروگرام میں کیا بات ہوئی؟
پروگرام کے دوران عاصمہ شیرازی نے گفتگو کو اس سوال کی طرف موڑا کہ اگر جنرل فیض حمید کے خلاف کارروائی ہوئی اور انہیں سزا سنائی گئی، تو پھر اُس وقت کے آرمی چیف جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کا کردار اس پورے معاملے سے کیسے الگ رکھا جا رہا ہے، جبکہ فوجی نظام میں چین آف کمانڈ کے تحت ڈی جی آئی ایس آئی براہِ راست آرمی چیف کو رپورٹ کرتا ہے۔
اس سوال کے جواب میں ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے وضاحت کی کہ جنرل فیض حمید کے خلاف کارروائی کسی عمومی یا سیاسی فیصلے کے تحت نہیں بلکہ ایک مخصوص قانونی عمل کے نتیجے میں شروع ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کیس معید خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی درخواست سے شروع ہوا، جس میں شکایت صرف جنرل فیض حمید کے خلاف تھی۔ ان کے مطابق، »اگر درخواست میں جنرل باجوہ کا نام شامل ہوتا تو ان کی بھی انکوائری ممکن تھی، لیکن چونکہ شکایت میں ان کا ذکر ہی نہیں تھا، اس لیے موجودہ کورٹ مارشل میں انہیں شامل نہیں کیا جا سکتا تھا۔«
ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے پروگرام میں یہ بھی واضح کیا کہ فوجی عدالت کے پاس یہ اختیار نہیں ہوتا کہ وہ کنویننگ آرڈر سے ہٹ کر کسی اور شخص کو شامل کرے۔ ان کے بقول، »کورٹ صرف اسی شخص کا ٹرائل کر سکتی ہے جس کے خلاف باقاعدہ چارجز فریم کیے گئے ہوں، اس کے دائرہ اختیار میں کسی اور کو شامل کرنا ممکن نہیں۔«
اس موقع پر عاصمہ شیرازی نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا اس کیس میں جنرل باجوہ کی براہِ راست ہدایات یا مداخلت سے متعلق کوئی ثبوت سامنے آیا۔ اس پر ایڈووکیٹ انعام الرحیم نے کہا کہ اس مخصوص ٹرائل میں ایسی کوئی دستاویزی ایویڈنس سامنے نہیں آئی جو جنرل باجوہ کی براہِ راست شمولیت کو ثابت کرتی ہو۔ ان کے مطابق، »جو شواہد سامنے آئے وہ جنرل فیض حمید کے ذاتی اقدامات سے متعلق تھے، کسی اور افسر کی براہِ راست ہدایت ثابت نہیں ہو سکی۔«
بعد ازاں گفتگو میں پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شوکت یوسفزئی نے بھی جنرل باجوہ کے ٹرائل سے متعلق سوال پر اپنا مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ احتساب کا عمل سب کے لیے ہونا چاہیے، لیکن محض سیاسی بیانات کی بنیاد پر کسی کو ٹرائل کے دائرے میں لانا درست نہیں۔ شوکت یوسفزئی کے مطابق، »اگر جنرل باجوہ کے خلاف کوئی ثبوت موجود ہیں تو وہ عدالت میں لائے جائیں، صرف ٹی وی اسکرین پر باتیں کرنے سے نہ انصاف ہوتا ہے اور نہ ہی سچ سامنے آتا ہے۔«
شوکت یوسفزئی نے مزید کہا کہ جنرل فیض حمید کی سزا فوج کا اندرونی معاملہ ہے اور اگر کسی اور شخصیت کے خلاف کارروائی کرنی ہے تو اس کا بھی واحد راستہ قانون اور عدالت ہے۔ ان کے الفاظ میں، »ہم سب احتساب کے حق میں ہیں، لیکن احتساب کا مطلب سیاسی پوائنٹ اسکورنگ نہیں ہونا چاہیے۔ جس کے خلاف ثبوت ہوں، اس کے خلاف مقدمہ چلایا جائے۔«
پی ٹی آئی کا مؤقف
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی نے گفتگو میں اس تاثر کو مسترد کیا کہ جنرل فیض کی سزا کو پی ٹی آئی کے ساتھ جوڑا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ احتساب سب کا ہونا چاہیے، لیکن بغیر ٹھوس شواہد کے سیاسی جماعت کو نشانہ بنانا پورے عمل کو مشکوک بناتا ہے۔
شوکت یوسفزئی نے کہا: ’’اگر جنرل فیض کو سزا ہوئی ہے تو یہ فوج کا اندرونی معاملہ ہے۔ ہم سب احتساب کے حق میں ہیں، لیکن اس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
انہوں نے حکومت کی کارکردگی پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ معاشی مسائل، مہنگائی، بیروزگاری اور قرضوں کے حوالے سے عوامی مشکلات برقرار ہیں، اور محض اسٹاک مارکیٹ کے اشاریوں کو کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مسلم لیگ (ن) کا مؤقف
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر خان نے گفتگو میں عسکری قیادت کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طاقتور اور بظاہر ناقابلِ احتساب سمجھے جانے والے افسر کے خلاف کارروائی قانون کی حکمرانی کی جانب اہم قدم ہے۔
انہوں نے کہا: ’’یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک بڑا اسٹیپ فارورڈ ہے کہ اپنے ادارے کے اندر احتساب ہوا۔ اب اگر مزید شواہد سامنے آتے ہیں تو قانون کے مطابق اگلے مراحل طے ہوں گے۔‘‘
خرم دستگیر نے اس بات پر زور دیا کہ سیاسی جماعت ہونا کسی کو قانون سے بالاتر نہیں بناتا، اور اگر ریاست مخالف سرگرمیوں میں کوئی ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔ تاہم انہوں نے قیاس آرائیوں سے گریز کرنے پر زور دیا۔
سیاسی مفاہمت اور مستقبل کی سیاست
پروگرام کے آخری حصے میں پی ٹی آئی کی نئی سیاسی کمیٹی، محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو دیے گئے اختیارات، اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے امکانات پر بات ہوئی۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو اسپیس دی جانی چاہیے، اور طاقت کے استعمال کے بجائے مکالمہ ہی مسائل کا حل ہے۔
انہوں نے دہشت گردی کے خلاف آل پارٹیز کانفرنس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تجاویز پر حکومت کی جانب سے اب تک جواب نہیں آیا، حالانکہ قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت ہے۔
پی ٹی آئی کی نئی سیاسی کمیٹی
گفتگو کے آخری حصے میں میزبان نے پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کی ازسرِنو تشکیل کا ذکر کیا۔ بتایا گیا کہ اس کمیٹی میں کچھ نام شامل نہیں کیے گئے اور کچھ افراد کو نکالا گیا، جب کہ محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو شامل کیا گیا۔ میزبان کے مطابق یہ نئی حکمت عملی عمران خان کی رہائی کے لیے سیاسی راستہ نکالنے کی کوشش کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
اسی حوالے سے بیرسٹر گوہر کا بیان بھی سنوایا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ “میرے پاس جو ان رائٹنگ انسٹرکشن خان صاحب کی آئی ہے وہ یہ ہے کہ محمود خان اچکزئی صاحب اور علامہ راجہ ناصر کے پاس اختیار ہے بات کرنی ہے یا نہیں کرنی، کرنی ہے تو کس کے ساتھ کرنی۔”
پروگرام کا اختتام میزبان کے اس سوال پر ہوا کہ آیا پاکستان تحریک انصاف کی نئی سیاسی کمیٹی واقعی کوئی سیاسی راستہ نکال پائے گی اور کیا جاری سیاسی کشیدگی میں کوئی پیش رفت ممکن ہو سکے گی، جس پر گفتگو آئندہ پروگرام تک موخر کر دی گئی۔
بشکریہ(ہم نیوز )

![ہم نیوز کے پروگرام ’فیصلہ آپ کا‘ میں سڈنی واقعہ، پاکستان مخالف پروپیگنڈا اور جنرل فیض حمید کی سزا زیرِ بحث [Draft]](https://rightnow.pk/wp-content/uploads/2025/12/11647_2025-12-15_18-26-43.webp)













