پاکستان میں بڑھتی آبادی کے باعث سماجی و معاشی دباؤ میں اضافہ، پالیسیوں میں تسلسل کی کمی سے ترقیاتی اہداف متاثر۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) پاکستان میں بڑھتی آبادی کے اثرات پر پہلی بار 1950 کی دہائی میں تشویش کا اظہار کیا گیا تھا، جب پہلے پانچ سالہ منصوبے میں خبردار کیا گیا کہ آبادی کے تیز اضافے کی صورت میں ترقیاتی اہداف پورے نہیں ہوں گے۔ لیکن پالیسیوں میں تسلسل کی کمی اور سیاسی مجبوریوں کے باعث طویل المدتی حکمت عملی نہیں بن سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے آبادی کو خاندانی منصوبہ بندی تک محدود رکھا اور اسے معاشی و سماجی ترقی سے نہیں جوڑا۔ نتیجتاً ملک کو سماجی، معاشی اور ماحولیاتی دباؤ کا سامنا ہے، جو تیزی سے بڑھتی آبادی سے منسلک ہیں۔
1965 سے 1970 کے تیسرے پانچ سالہ منصوبے کے تحت خاندانی منصوبہ بندی کا جامع پروگرام شروع ہوا، مگر سیاسی عدم استحکام کے باعث یہ مستقل حکومتی ترجیح نہ بن سکا۔ 1990 کی دہائی میں بے نظیر بھٹو نے لیڈی ہیلتھ ورکرز پروگرام متعارف کرایا، جسے خاندانی منصوبہ بندی کو گھر گھر پہنچانے کی اہم پیش رفت کہا جاتا ہے۔
2002 میں پہلی قومی آبادی پالیسی پیش کی گئی، جس میں آبادی کے مسائل کو تعلیم، صحت، روزگار اور خواتین کے بااختیار بنانے سے جوڑا گیا۔ 2010 میں اٹھارویں ترمیم کے بعد اختیارات صوبوں کو منتقل ہوئے، اور ایک نیا فریم ورک تشکیل دیا گیا۔
2018 میں قومی ایکشن پلان کی منظوری دی گئی، تاہم عمل درآمد کمزور انتظامی ڈھانچے، مالی مسائل اور سیاسی عدم تسلسل کے باعث متاثر رہا۔ حالیہ برسوں میں مثبت پیش رفت دیکھی گئی، جہاں صحت اور آبادی ویلفیئر سروسز کو ضم کرنے کے اقدامات جاری ہیں اور علما نے وقفے سے بچوں کی پیدائش کی حمایت کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ مربوط عزم، بہتر وسائل، صوبائی تعاون اور مقامی سطح پر مضبوط عمل درآمد کے بغیر پالیسی اہداف حاصل نہیں ہو سکیں گے۔















