“سِتارہ کیا مِری تقدیر کی خبر دے گا” ایک تاریخی داستان، جِس میں مُنجِّم ہارا، بادشاہ جیت گی

ہِندو مُؤرِّخین کے مُطابق رانا سانگا اپنی زندگی ہی میں ایک دیومالائی کردار کا رُوپ دھار چُکا تھا۔ اِس لیے نہیں کہ وہ اپنے سفید ہاتھی کے ہودج میں سینہ تان کر کھڑا ہو کر اپنے اَسّی ہزار سواروں اور پانچ سو جنگی ہاتھیوں کی میدانِ جنگ میں بنفسِ نفیس قیادت کرتا تھا، بلکہ اِس لیے کہ اُس نے باہم برسرِ پیکار اور اپنی خودمختاری پر نازاں رہنے والے راجپوتوں کو بھی اپنا بَھکْت جَن (گرویدہ) بنا لیا تھا، اور وہ اُس کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہونے کو پُنْیَہ کَرْم (کارِ ثواب) سمجھتے تھے۔
کرنل جیمز ٹوڈ کے مُطابق راجستھان میں اٹھارہویں صدی تک یہ لوک روایت عام تھی کہ سات راجے، نو راؤ اور ایک سو چار راول و راوت رانا سانگا کے اَگیاکار (اشارے پر چلنے والے) تھے۔ صِرف یہی نہیں، اُس نے اپنی شخصیت کے سِحر سے مارواڑ، آمیر، گوالیار، اجمیر، رائے سین، چندیری، بوندی، رام پورہ، گاگرون اور کوہِ ابو کے طاقت ور حاکموں تک کو اپنا بے دام حلیف بنا رکھا تھا۔(”دی انالز اینڈ اینٹیکیوٹیز آف راجھستان” ، جلد اول، ص:۳۴۹)
رانا سانگا کا اصل نام سنگرام سنگھ سِسودیہ تھا اور وہ میواڑ کے مہارانا رائے مل کا بیٹا تھا۔ ۱۵۰۹ء میں وہ تختِ میواڑ پر بیٹھا اور جلد ہی اُس نے راجپوتانہ کی تمام بکھری ہوئی طاقتوں کو اپنے اردگرد اکٹھا کرلیا ۔ وہ حقیقی معانی میں مردِ میدانِ کارزار تھا اور اس کا جنگوں سے زخم خوردہ جسم اِس حقیقت کا سب سے بڑا گواہ تھا۔
اپنے بڑے بھائی پرتھوی راج کے ساتھ جانشینی کی خونریز کشمکش میں تیر آنکھ میں پیوست ہونے کے سبب رانا سانگا پہلے ایک آنکھ سے محروم ہوا۔ پھر سلطان ابراہیم لودھی کے خلاف کھٹولی کی جنگ میں تلوار کے وار کی وجہ سے اس نے اپنا ایک بازو گنوایا ۔ اسی معرکے میں ٹانگ میں تیر پیوست ہونے کے سبب وہ دائمی طور پر “لنگ”( لنگڑا) بھی ہوگیا ۔تلواروں، نیزوں اور دوسرے ہتھیاروں کے اَسّی سے زائد زخم اُس کے جسم پر ثبت تھے۔
ظہیرُ الدِّین محمد بابر کے سامنے میدان جنگ میں اُترتے وقت رانا سانگا کی عمر تقریباً پینتالیس برس کی تھی۔ ہمیشہ کی طرح تمام راجپوت تو اُس کے پرچم تلے جمع تھے ہی لیکن اِس دفعہ اُس نے کئی افغان سرداروں کو بھی اپنا عسکری حلیف بنایا ہوا تھا۔
بابر نے شاید اِسی سبب سے اپنی خود نوشت “تزکِ بابری” میں اعتراف کیا ہے کہ رانا سانگا “اپنی تلوار اور اپنی بہادری کے زور پر” اس عظمت اور اقتدار تک پہنچا تھا۔
گو کہ بابر ، رانا سانگا سے لڑائی سے پہلے ۱۵۲۶ء میں سلطان ابراہیم لودھی کو پانی پت کے میدان میں شکست دے کر دہلی اور آگرہ پر قابض ہو چکا تھا ، تاہم وہ اِس حقیت سے بخوبی آشنا تھا کہ ہندوستان کی مکمل تسخیر رانا سانگا کو راہ سے ہٹائے بغیر ممکن ہی نہ تھی ۔
چنانچہ یہ دونوں جنگجو ، ظہیر الدین محمد بابر اور رانا سانگا، اپنی اپنی مجبوریوں کے سبب بالآخر ۱۷ مارچ ۱۵۲۷ء (۹۳۳ ھ) کے دن آگرہ سے ۲۳ میل کی مسافت پر واقع “کانوہ” (جسے “خانواہ” بھی کہا جاتا ہے ) کے میدان میں ایک دوسرے کے مقابل آن خیمہ زن ہوئے ۔
ہندوستان کے مستقبل کا فیصلہ اب اِسی کانوہ کے میدان میں لگنے والے “یُدھ” (جنگ) نے کرنا تھا۔
چنانچہ جب کانوہ کے میدان میں مغل افواج توپیں نصب کرنے، عربے جمانے اور خندقیں کھودنے میں مصروف تھیں ، بابر کو ایک نئے مخمصے اور ذہنی اُفتاد نے آ گھیرا۔
ایک تو مغل لشکر فروری ۱۵۲۷ء کی بایانہ کی شدید جھڑپ میں مغلوں کے پیش رو دستے کے راجپوتوں کے ہاتھوں سخت جانی نقصان پہنچنے کے سبب اضطراب، تردّد اور بے یقینی کی کیفیت کا شکار تھا ، دوسرا محمد شریف نامی ایک منجم ، جو اپنے زمانے کا ماہر ترین ستارہ شناس تھا ، ستاروں کی چالوں کی بنیاد پر بابر کی شکست کی پیش گوئی کرنے لگا۔
بابر نے اس واقعے کو اپنی خودنوشت “تزکِ بابری” میں کچھ ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے:
““محمد شریفِ منجّمِ شوم‌نفس هم همراه ضیاء آمد. بابا دوست، سَقّایی که به جهتِ شراب به کابل رفته بود، از شراب‌هایِ موجّهِ غزنی بر سه قطارِ شتر شراب بار کرده، آن هم همراهِ همین‌ها آمد. در این طور محلّی که از وقایع و حالاتِ گذشته و از سخنانِ پریشان، چنان‌که مذکور شد، در لشکر تردّد و توهّم بسیار بود، محمد شریفِ منجّمِ شوم‌نفس، اگرچه یارایِ گفتنِ این سخن نداشت، به هر کس که وا می‌خورد، به مبالغه می‌گفت: در این ایّام مریخ به طرفِ غرب است؛ هر کس از این طرف جنگ کند، مغلوب می‌شود۔ و این چنین شوم‌نفس، دلِ مردمِ بیدل را به بیشتر شکست. با این چنین سخنانِ او گوش نکرده، کارهایِ گردنیِ خود را پیش گرفته، به جنگ و تصادف مستعد شده…”
(ترجمہ:) اسی دوران محمد شریف، وہ بدشگون منجم، ضیاء کے ساتھ آ پہنچا۔ بابا دوست، جو شراب لانے کے لیے کابل گیا تھا، غزنی کی عمدہ شراب اونٹوں کی تین قطاروں پر لاد کر واپس آیا اور وہ بھی انہی لوگوں کے ساتھ پہنچا۔ اس وقت، جب گزشتہ واقعات اور پیش آئے ہوئے حالات کے باعث، جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، لشکر میں سخت اضطراب، تردد اور وہم کی کیفیت پیدا ہو چکی تھی، محمد شریف، وہ بدشگون منجم، اگرچہ ایسی بات کہنے کی جرأت نہ رکھتا تھا، مگر جس شخص سے بھی ملتا، مبالغے کے ساتھ یہی کہتا رہتا تھا: ‘ان دنوں مریخ مغرب کی طرف ہے؛ جو شخص اس سمت سے جنگ کرے گا، وہ مغلوب ہو جائے گا۔’ اس بدشگون شخص نے پہلے ہی خوف زدہ لوگوں کے دل مزید توڑ دیے۔ لیکن ہم نے اس کی ایسی باتوں پر کان نہ دھرا، اپنے جنگی انتظامات جاری رکھے، جنگ و مقابلے کے لیے پوری طرح تیار ہوئے، اور اتوار، اکیسویں تاریخ کو شیخ جمالی کو روانہ کیا…
محمد شریف منجم کی پھیلائی ہوئی بدشگونی کے سبب “اکثر درباریوں اور امراء نے بابر کو مشورہ دیا کہ دشمن کی بے پناہ قوت سامنے ہے، اس لیے مناسب یہی ہے کہ وہ بڑے بڑے قلعے قابلِ اعتماد امراء کے سپرد کر کے خود پنجاب کی طرف واپس چلا جائے اور وہاں غیبی امداد یا کسی موزوں موقع کا انتظار کرے۔
بابر نے یہ رائے سنی، کچھ دیر غور و فکر کیا، پھر کہا: “اگر میں نے بزدلی اور کمزوری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس وقت پسپائی اختیار کی، تو دنیا کے مسلمان فرمانروا میرے بارے میں کیا کہیں گے؟ وہ یہی کہیں گے کہ میں نے محض جان کے خوف سے اتنے بڑے ملک کو اپنے ہاتھوں سے گنوا دیا۔ میں تو یہی مناسب سمجھتا ہوں کہ درجۂ شہادت کی تمنا دل میں لیے مردانگی، استقلال اور بہادری کے ساتھ میدانِ جنگ میں ثابت قدم رہوں۔”
اہلِ مجلس نے بابر کی یہ بصیرت افروز تقریر سنی تو سب نے بالاتفاق جہاد کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ بادشاہ کے ان الفاظ نے لشکر میں نئی روح پھونک دی۔ حاضرین نے یک زبان ہو کر کہا: “شہادت سے بڑھ کر اور کون سی سعادت ہو سکتی ہے؟ مسلمانوں کا عقیدہ ہی یہ ہے کہ مارے جائیں تو شہید، اور غالب آئیں تو غازی۔ ہم سب اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر عہد کرتے ہیں کہ میدانِ جنگ سے ہرگز منہ نہیں موڑیں گے۔” (بحوالہ : “تاریخ فرشتہ” ، ص: ۴۴۰)
بالآخر جب جمعہ ۷ جمادی الثانی ۹۳۳ ھ( مطابق ۱۷ مارچ ۱۵۲۷ء) کے دن کانوہ کا فیصلہ کن معرکہ رُو پذیر ہوا تو مشیت الٰہی شریف منجم کے ستاروں کے حساب و کتاب پر غالب آگئی اور “یدھ” کے نتائج اس کی پیش گوئی کے بالکل برعکس نکلے ۔
جنگ کے شروع شروع میں تو حسب توقع دونوں جانب سے تلواریں، نیزے، تیر، توپیں اور آتشیں اسلحہ مسلسل استعمال ہوتا رہا، مگر جب بابر نے مؤثر جنگی حکمتِ عملی کے تحت سامنے سے عربہ بندی، توپ خانے اور تفنگچیوں کے مسلسل حملے جاری رکھتے ہوئے دائیں اور بائیں بازو پر متعین متحرک گھڑسوار دستوں (تُلغمہ) کے ذریعے راجپوت لشکر کے اطراف پر یلغار کی تو اس دو طرفہ دباؤ سے رانا سانگا کی صفیں منتشر ہوگئیں ۔ راجپوت لشکر میں بھگدڑ مچ گئی اور اسی دوران رانا سانگا بھی شدید زخمی ہو گیا۔ گو کہ اُس کے وفادار سپاہی اُسے میدانِ جنگ سے نکال لے گئے تاہم حسن خان میواتی، رائے راول دیو، چندربھان چوہان ، مانک چند چوہان ، کرم سنگھ راجپوت ، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ پر عالی جاہ اور گردوں مرتبت امیر تھا ، موت کے گھاٹ اُتار دئیے گئے ۔ کانوہ کا میدان بابر کی فیصلہ کن فتح کا گواہ بن گیا۔(بحوالہ: “تاریخ فرشتہ”، ص: ۴۴۲)
بابر نے اِس فتح کو محض ایک عسکری کامیابی نہیں سمجھا، بلکہ اِسے خدا کی نصرت قرار دیا ۔ چنانچہ اُس نے اپنے نام کے ساتھ “غازی” کا لقب اختیار کرلیا اور لوگ بھی اُسے اِسی لقب کے ساتھ پکارنے لگے ۔
کانوہ کی عظیم الشان کامیابی کی تاریخ “ فتحِ بادشاہِ اسلام” نکالی گئی ۔ بابر نے حکم دیا کہ میدان جنگ کے ساتھ واقع پہاڑ کی چوٹی پر دشمنوں کے سروں کا مینار تعمیر کیا جائے۔ بابر کے حکم کی فی الفور تعمیل کی گئی۔
یہ جملہ احوال بابر کی قلمی اس کی خود نوشت میں رقم ہوا ہے ۔ وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے میں اس جنگ میں فتح یاب ہوا اور غازی بنا، تو عشاء کے وقت لشکر میں واپس آیا۔ محمد شریف منجم، جس نے وہ منحوس باتیں پھیلائی تھیں، فتح کی مبارک باد دینے حاضر ہوا۔ میں نے بھی اُسے خوب برا بھلا کہا اور دل کا بخار نکالا۔ اگرچہ وہ بڑا بے ایمان، بد نفس، مغرور اور بے انتہاء ٹرا تھا، لیکن چونکہ وہ بہت پرانا خدمتگار تھا، اس لیے اُسے ایک لاکھ انعام دے کر رخصت کر دیا اور حکم دیا کہ آئندہ میرے قلمرو میں نہ ٹھہرے۔” (بحوالہ: تزکِ بابری، اردو ترجمہ، ص ۳۱۵)
تاہم اب یہ بھی نہیں کہ بابر اپنے زمانے کا کوئی قطعی منفرد کردار تھا اور وہ اپنے زمانے کے باقی لوگوں کے برعکس ستاروں کی چالوں سے مرتب ہونے والے علم النجوم پر ہرگز کوئی اعتقاد نہیں رکھتا تھا۔
“تزکِ بابری” ہی میں ایک دوسرے معرکے کا احوال بیان کرتے ہوئے وہ خود اعتراف کرتا ہے کہ میں جنگ جلد شروع کرنے کے لیے اس لیے بے تاب تھا کہ جنگ کے روز آٹھ ستارے دونوں لشکروں کے درمیان تھے۔ اگر یہ معرکہ تیرہ یا چودہ دن کے لیے مؤخر کر دیا جاتا تو وہی ستارے دشمن کے عقب میں آ جاتے۔(بحوالہ “تزک بابری” ص: ۱۳۹)
یہ عبارت بذات خود اس امر کی غماز ہے کہ ایک زمانے میں بابر نجومی حساب اور سیاروں کی گردش کو جنگی فیصلوں میں مؤثر سمجھتا تھا۔ لیکن کانوہ کے معرکہ میں اُس نے ستاروں کی گردش کے بجائے نصرتِ خداوندی پر بھروسا کیا، میدانِ جنگ میں اترا اور فتح یاب ہوا۔
دوسرے لفظوں میں ، بابر نے اپنی زندگی کے سب سے بڑے امتحان میں محمد شریف منجم کی پیش گوئیوں پر کان دھرنے کی بجائے ، مالک لم یزل و لم یزال کی بارگاہ میں دست سوال دراز کرنے ہی کو کامیابی کی سبیل جانا۔
بابر کا اپنی خود نوشت میں شریف منجم کا بار بار “شوم نفس” کے الفاظ کے ساتھ تذکرہ کرنا اور اسے سخت سست اور بُرا بھلا کہنا بھی شاید اسی وجہ سے ہے کہ وہ اپنے اندر کی آواز پر توہم پرستی کے جس راستے کو ترک کرنا چاہتا تھا ، منجم اسی بُرے راستے کا سب سے بڑا داعی تھا۔
کانوہ کی لڑائی کتبِ تاریخ میں محفوظ ہے ۔بابر کے اس جنگ میں اپنی کامیابی کے سہرے کو نصرتِ خداوندی کے سر باندھنے کو بھی مورخین ایک اٹل تاریخی حقیقت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ اور اُس محمد شریف منجم ، جو آسمان کے ستاروں میں اہلِ زمین کی تقدیر تلاش کرتا تھا، کی کوتاہ بینی کا احوال بھی تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہوچکا ہے ۔ کوئی چاہ کر بھی اِن واقعات کی نہ تو ترتیب بدل سکتا ہے اور نہ ہی تحریر۔
چشمِ بینا والے خُوب سے جان چکے ہیں کہ محمد شریف منجم تاریخ میں “شوم نفس” کے لقب کے ساتھ باقی رہ گیا ہے جبکہ بابر “غازی” کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔
حقیقت بھی یہی ہے کہ اس دنیا کے فیصلے ستاروں کی گردش سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور نصرت سے صادر ہوتے ہیں۔اور اِسی حقیقت کو حکیم الامت ، شاعرِ مشرق علامہ محمد اقبال نے اپنے اِس لازوال شعر میں سمویا ہے کہ ؎
ستارہ کیا مری تقدیر کی خبر دے گا۔۔۔۔
وہ خود فراخیِ افلاک میں ہے خوار و زبوں

تحریر: سعید احمد شیخ، ڈی جی، ریڈیو پاکستان

سعید احمد شیخ ریڈیو پاکستان وزارتِ اطلاعات و نشریات کے سینئر افسر اور آجکل ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور تصوف، تاریخ، ثقافت، ادب، ابلاغِ عامہ اور قومی ورثے سے متعلق موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔