کراچی میں کانفرنس میں ماہرین نے خبردار کیا کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ٹانگ کٹوانا جان لیوا ہو سکتا ہے، پاکستان میں اموات کی شرح بعض کینسرز سے زیادہ ہے۔
کراچی: (رائیٹ ناؤ نیوز) کراچی میں بین الاقوامی کانفرنس میں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ٹانگ یا پاؤں کا کٹوانا جان لیوا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق پاکستان میں تقریباً نصف مریض تین سال کے اندر انتقال کر جاتے ہیں۔
کانفرنس میں بتایا گیا کہ ذیابیطس کے مریضوں میں ٹانگ کٹوانے کے بعد اموات کی شرح بعض کینسرز سے بھی زیادہ ہے۔ ڈاکٹر فہد طارق نے کہا کہ پانچ سال میں ‘مائنر ایمپیوٹیشن’ کے بعد 40 فیصد سے زیادہ مریض انتقال کر جاتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریضوں میں پیریفرل آرٹیریل ڈیزیز (PAD) اور دیگر سنگین بیماریاں عام ہیں، جو ہارٹ اٹیک اور فالج کے خطرے میں اضافہ کرتی ہیں۔
واضح رہے کہ پاکستان میں سالانہ تین لاکھ افراد ذیابیطس کی پیچیدگیوں کی وجہ سے ٹانگ یا پاؤں کٹوانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ بروقت تشخیص اور علاج سے ایسے مریضوں کو بچایا جا سکتا ہے۔
پروفیسر زاہد میاں نے 24 گھنٹے ہیلپ لائن کا آغاز کیا ہے تاکہ مریض فوری طبی رہنمائی حاصل کر سکیں۔ انہوں نے ذیابیطس کے زخموں کے علاج کے لیے دو سالہ پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ بھی شروع کرنے کا اعلان کیا۔















