ایف بی آر نے ایکسپورٹرز پر ٹیکس کو 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا ہے، جس سے سرمایہ کاری کے انخلا کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے ایکسپورٹرز پر ٹیکس کو 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ سرمایہ کاری کے انخلا کو روکنے اور آئندہ برسوں میں مزید ٹیکس کمی کی کوششوں کے تحت کیا گیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں ایف بی آر حکام نے بتایا کہ وزیراعظم کی جانب سے ایکسپورٹرز کو 80 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف دیا گیا ہے۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر طلحہ محمود نے کی۔
ایف بی آر حکام نے مزید بتایا کہ رواں سال 361 ارب روپے کا ٹیکس ریلیف پیکیج بھی دیا گیا ہے۔ کاروباری برادری پر ایک سال میں کوئی گرفتاری یا ایف آئی آر درج نہیں ہوئی، جبکہ کمیٹیاں بھی قائم کردی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ٹیکس گزار ٹیکس ادا کرکے آڈٹ سے بچ سکتے ہیں، اور ٹیکس فائلرز کو گوشواروں پر نظرثانی کرنے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ 2022 کے بحران کے بعد ٹیکسوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔ حکومت نے اب سپر ٹیکس ختم کر کے 55 ارب روپے کا ریلیف دیا ہے۔ نان بینکنگ کمپنیوں پر 29 فیصد ٹیکس ہے اور فیس لیس ٹیکس سسٹم بھی متعارف کرایا گیا ہے۔














