وہ اپنی مِثل آپ تھا۔ وہ حقیقی معنوں میں اپنے عہد کا ایک عسکری نابغہ تھا۔ جب ایک زمانہ منگولوں سے خوف کھاتا تھا، منگول اُس سے خوف کھاتے تھے۔ اور خوف بھی ایسا کہ اُس عہد کے مؤرخ ضیاءُ الدین برنی لکھتے ہیں:
“اگر دَوابِ ایشاں آب نَخوردی، گفتندی: مگر ظفر خان را دیدی کہ آب نمیخوری؟”
(ترجمہ: اگر اُن منگولوں کے سواری یا باربرداری کے جانوروں میں سے کوئی پانی نہ پیتا تو وہ کہتے: “کیا تم نے ظفر خان کو دیکھ لیا ہے کہ خوف کے مارے پانی نہیں پی رہے؟”)(بحوالہ: “تاریخِ فیروز شاہی”، ص: ۲۶۰)
یہی فقرہ بعد میں فارسی زبان کے ایک معروف محاورے، “ظفر را دیدی کہ آب نمیخوری؟” میں بھی مُبدَّل ہوا، جو ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب کوئی اپنے دشمن کا ہڈیوں تک میں سرایت کر جانے والا خوف چُھپا نہ سکے، اور اُس پر مُستزاد یہ کہ اُس کے اپنے ہی اُسے طعن و تشنیع کے نشتر ماریں۔
ظفر خان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں تاریخ زیادہ تر خاموش ہے۔ نہ اُس کی تاریخِ پیدائش یقینی طور پر معلوم ہے اور نہ ہی اُس کے خاندانی حالات پر معاصر مؤرخین نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تاریخ نے اُسے اُس کے اصل نام سے زیادہ اُس کے لقب “ظفر خان” کے ساتھ محفوظ رکھا ہے۔
ظفر خان کے اصل نام کے بارے میں مختلف آراء ملتی ہیں۔ “تاریخِ فرشتہ” میں اُس کا اصل نام “ہِزبَرُالدِّین” لکھا گیا ہے۔
(بحوالہ: “تاریخِ فرشتہ” از محمد قاسم فرشتہ، جلدِ اوّل، ص: ۱۶۱)
اگر یہی اُس کا خاندانی نام تھا تو پھر وہ واقعی اسمِ بامُسمّٰی ثابت ہوا۔
اسمِ بامُسمّٰی اُس شخص کو کہا جاتا ہے جو اپنے نام ہی کی صفات کا حامل ہو۔
“ہِزبَرُ” عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی “شیر” کے ہیں۔
(بحوالہ: لغت نامۂ دہخدا، ڈیجیٹل ایڈیشن)
اِس اعتبار سے “ہِزبَرُ الدِّین” کے معنی “دینِ اسلام کا شیر” بنتے ہیں۔ اگر اُس کے زمانے کے تاریخی مآخذ، بمثل “تاریخِ فیروز شاہی” از ضیاءُ الدین برنی اور “فتوح السلاطین ” از عبدالمالک عصامی اور “تاریخِ فرشتہ” از محمد قاسم فرشتہ میں مُندرَج اُس کے اَحوال پر نظر ڈالی جائے تو وہ حقیقی معنوں میں دینِ اسلام کا ایک شیر ثابت ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
سولہویں صدی کے مؤرخ عبدُالقادر بدایونی نے اپنی “منتخبُ التواریخ” میں اُس کا نام “بدرُ الدِّین” بھی تحریر کیا ہے۔ بعض مآخذ میں اُس کا نام، غلط طور پر، “حربُ الدِّین” اور “حِزْبَرُ الدِّین” بھی درج ملتا ہے۔ تاہم یہ دونوں صورتیں بالترتیب معنی اور املا کی غلطی کو جنم دیتی ہیں، جن کی تصحیح کی ضرورت ہے۔
“تاریخِ فرشتہ” کے مطابق سلطان علاءُ الدین خلجی نے زمامِ اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک ہِزْبَر کو “ظفر خان” کا خطاب دیا اور پھر بعد میں اُسے “عارضِ ممالک” یعنی وزیرِ جنگ بھی مقرر کیا، جو اُس دور کا ایک نہایت اہم فوجی عہدہ تھا۔
علاءُ الدین خلجی کے عہدِ حکومت میں منگول یکے بعد دیگرے ہندوستان پر حملہ آور ہوتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس سلطان کو اپنے زمانے کی ایک بڑی فوج رکھنا پڑی، جس کی تعداد بعض کتبِ تاریخ میں ساڑھے چار لاکھ سے پونے لاکھ تک بھی درج ملتی ہے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب منگول دنیا کی سب سے ہولناک جنگی قوت سمجھے جاتے تھے اور دنیا کے کئی علاقوں کو تہس نہس اور کئی شہروں کو راکھ کر چکے تھے۔ مگر علاءُ الدین خلجی کے زمانۂ اقتدار، ۱۲۹۶ء تا ۱۳۱۶ء، میں ہندوستان کی سرحدوں پر اُن کے سامنے بار بار جو سپہ سالار سینہ سپر ہوتا رہا، وہ ظفر خان تھا۔ قریب قریب ہر بڑے منگول حملے میں وہ سلطنتِ دہلی کی افواج کی اُلُغ خان کے ساتھ مشترکہ قیادت کرتا اور اپنی غیر معمولی عسکری بصیرت، برق رفتار یلغاروں اور بے مثال جرأت کے ذریعے اُنہیں عبرت ناک شکست سے دوچار کرنے کی بڑی سبیل بنتا رہا۔
منگولوں کے ساتھ سلطانی فوج کی جارَن اور منجور کی لڑائیاں ۶۹۶ھ/۱۲۹۷ء میں وقوع پذیر ہوئیں، جن میں ظفر خان اور اُلُغ خان نے منگولوں کو فیصلہ کُن شکست دی۔ اُس کے اگلے سال، ۶۹۷ھ/۱۲۹۸ء میں، سیویستان، موجودہ سیہون، کی جنگ ہوئی، جہاں ظفر خان نے منگول سردار سالدی کو گرفتار کر کے دہلی بھیج دیا۔ اُس کے بعد ۶۹۹ھ/۱۲۹۹ء میں کِیلی کی مشہور جنگ برپا ہوئی۔ یہ سب جنگیں ظفر خان کی عسکری مہارت کے زندہ شواہد ہیں۔ اُس کی جنگی مہارت اور بے خوف قیادت کا اعتراف کرتے ہوئے اُس عہد کے مؤرخ ضیاء الدین بارانی نے اپنی تصنیف “تاریخ فیروز شاہی” میں اُسے “رستمِ وقت” قرار دیا۔مورخ عبدالمالک عصامی نے بھی اُسے اُس کی بہادری کے پیش نظر “رُستم نژاد” لکھا ہے ۔(بحوالہ “ فتوح السلاطین”، ص: ۲۶۸)
رستم ایران کا وہ شہرۂ آفاق اساطیری سپہ سالار ہے جسے فردوسی نے اپنی لازوال تصنیف “شاہنامہ” میں شجاعت، جنگی ہیبت، غیر معمولی جسمانی قوت اور بے جگری سے لڑنے کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔
بارانی اور عصامی کی جانب سے ظفر خان کو “رستمِ وقت” یا “ رستم نژاد” کہنا محض ادبی تشبیہات نہ تھیں، بلکہ اِس حقیقت کا اعتراف تھا کہ اپنے عہد میں جنگی مہارت، دلیری، دشمن پر رُعب طاری کرنے اور میدانِ جنگ میں بے مثال ثابت قدمی کے اعتبار سے اُس کا کوئی ہم سر نہ تھا۔
۱۲۹۹ء میں منگول شہزادہ قتلغ خواجہ، جس کا نام بعض کتبِ تاریخ میں قتلق خواجہ بھی رقم ملتا ہے، ایک بڑے لشکر کے ساتھ ہندوستان پر حملہ آور ہوا۔ دہلی کے نواح میں واقع میدانِ کِیلی میں دونوں افواج آمنے سامنے ہوئیں۔ اطراف کی سپاہ کی کثرتِ اموات کی وجہ سے اِس جنگ کو ہندوستان کی تاریخ کی بڑی جنگوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔
جنگ کے دوران منگولوں نے مصنوعی پسپائی (Feigned Retreat) کی اپنی مشہور جنگی چال چلی۔ ظفر خان اپنے قریباً ایک ہزار جانباز سواروں کے ساتھ بھاگتے ہوئے منگولوں کا تعاقب کرتا ہوا میدانِ کِیلی سے کافی دُور نکل آیا۔ اچانک منگولوں کے پوشیدہ دستے اطراف سے نمودار ہونے لگے اور قریباً پانچ ہزار منگول سواروں نے ظفر خان اور اُس کے ایک ہزار سواروں پر مشتمل دستے کا محاصرہ کر لیا۔ منگولوں کی جانب سے پہلے سے درختوں پر بھی ماہر تیرانداز بٹھا دیے گئے تھے۔ وہ بھی تیروں کی بوچھاڑ کرنے لگے۔ اِس جان لیوا گھیراؤ کے باوجود ظفر خان اور اُس کے رُفقا شیردلوں کی طرح لڑتے رہے اور دیکھتے ہی دیکھتے میدانِ جنگ دونوں جانب کے سپاہیوں کی لاشوں سے اَٹ گیا۔
ضیاءُ الدین برنی لکھتے ہیں کہ اِس نازک موقع پر قتلغ خواجہ نے ظفر خان کو پیغام بھیجا کہ اگر وہ ہتھیار ڈال دے اور علاءُ الدین خلجی کی وفاداری ترک کر دے تو اُسے سلطانِ دہلی کے دربار میں حاصل منصب سے بھی بلند عہدہ، زیادہ عزت اور بے شمار انعامات منگول دربار کی طرف سے دیے جائیں گے۔
یہی بات “تاریخِ فرشتہ” میں بھی کچھ اِن الفاظ کے ساتھ بیان ہوئی ہے: “قتلق خواجہ نے سفید جھنڈی ہلائی اور ملک ہِزَبَرُ الدِّین ظفر کی تعریف کر کے پیغام دیا کہ تم حقِّ نمک ادا کر چکے، آؤ اب ہم تم کو اِس سے اونچے مرتبے پر پہنچاویں۔ ظفر خاں نے قبول نہ کیا اور برابر تیروں سے جماعتِ کثیر مار ڈالی۔ قتلق خواجہ نے ہر چند چاہا کہ زندہ گرفتار کر لوں، میسر نہ ہوا۔ آخر تیر برسانے کا حکم دیا اور ملک ہِزبَرُ الدِّین ظفر خان شہید ہو گیا۔ اُس کی فوج کے سردار بھی مارے گئے، لیکن مغلوں نے اِس خوف سے کہ مبادا لشکرِ علائی آ جاوے، فوراً کوچ کیا اور تیس کوس پر جا کر دم لیا۔ وہاں سے بھی کوچ پر کوچ کر کے جلدی اپنی سرحد میں داخل ہوئے۔ مغلوں کے دلوں پر ظفر خاں کا خوف ایسا بیٹھ گیا کہ اگر اُن میں سے کسی کا گھوڑا پانی پینے میں بھڑکتا تو کہتا کہ کیوں، کیا ملک ہِزبَرُ الدِّین ظفر خان کی صورت نظر آ گئی؟”
ضیاءُ الدین برنی کے مطابق ظفر خان کی شہادت کے بعد بھی منگولوں کے دلوں سے اُس کی ہیبت ختم نہ ہوئی۔ وہ لکھتے ہیں: “ظفر خانی ہراسی بس شگرف در سینہ ہائے مغل منتقش گشت۔” (ترجمہ: ظفر خان کا غیر معمولی خوف منگولوں کے سینوں میں نقش ہو گیا تھا۔)
ظفر خان کی شہادت کی خبر جب دہلی پہنچی تو پورا شہر سوگوار ہو گیا۔ اُس کی تیروں، نیزوں اور تلواروں سے گھائل میّت کی آخری جھلک دیکھنے کے لیے پورا دہلی، بلا تفریقِ دین و مذہب، اُمڈ آیا۔ اُس کی نمازِ جنازہ میں شریک ہونے والوں کی تعداد اِس قدر زیادہ تھی کہ اُس کا جنازہ دہلی کی تاریخ کے بڑے جنازوں میں سے ایک شمار کیا جاتا ہے۔
ایک مشہور روایت یہ بھی ہے کہ جنازے میں عوام کی غیر معمولی شرکت دیکھ کر سلطان علاءُ الدین خلجی نے کہا: “کاش! آج ظفر خان کی جگہ میں ہوتا اور اِس قدر کثیر تعداد میں مخلوقِ خدا میرے جنازے میں شریک ہوتی۔”
اگرچہ اِس روایت کا ذکر معاصر مؤرخین کے ہاں نہیں ملتا، تاہم بعد کی تواریخ اور روایات میں اِسے ظفر خان کی عوامی مقبولیت کے اظہار کے طور پر نقل کیا گیا ہے۔
ظفر خان کو دہلی کے تاریخی علاقے تغلق آباد میں دفن کیا گیا۔ بعد میں تغلق خاندان کے سلطان غیاثُ الدین تغلق بھی اِسی احاطۂ مقبرہ کی سادہ مگر رُعب دار عمارت میں مدفون ہوئے۔
منگولوں کے دلوں میں ظفر خان کی ہیبت اور اہلِ ہند کے دلوں میں اُس کی محبت آج بھی اِس بات کی گواہی دیتی ہے کہ ظفر خان ہی وہ دلیر، بے باک اور شیردل سالار تھا جس نے منگولوں کے دہلی کو فتح کرنے کے خواب کو شرمندۂ تعبیر نہ ہونے دیا۔ وہ سلطنتِ دہلی کا ایسا سرکردہ مگر کم ستائش یافتہ محافظ تھا جس نے اپنے خون سے ہندوستان کی تاریخ کا رُخ موڑ دیا۔
سچ پوچھیں تو تغلق آباد میں اپنے مزار کے اندر ابدی نیند سویا ملک ہِزبَرُ الدِّین ظفر خان آج بھی اسمِ بامُسمّٰی ہی ہے۔





