بجلی شعبے کے مقدمات پر اربوں کا خرچ، پاکستان کو مالی دباؤ کا سامنا

پاکستان کو بجلی کے شعبے کے بین الاقوامی مقدمات میں اربوں روپے خرچ کرنا ہوں گے۔ یہ مقدمات ملکی مالی حیثیت پر اثر ڈال سکتے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
بجلی شعبے کے مقدمات پر اربوں کا خرچ، پاکستان کو مالی دباؤ کا سامنا

اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) پاکستان کو بجلی کے شعبے سے متعلق بین الاقوامی ثالثی مقدمات میں قانونی دفاع کے لیے آئندہ دو برسوں میں اربوں روپے خرچ کرنے ہوں گے۔ پاور ڈویژن نے مالی سال 2026-27 اور 2027-28 کے لیے مقدمات کے اخراجات کا تخمینہ 3 ارب 79 کروڑ روپے لگایا ہے۔

حکومت نے آزاد بجلی گھروں (آئی پی پیز) اور کے الیکٹرک کے غیر ملکی شیئر ہولڈرز سے متعلق مقدمات کے قانونی اخراجات کے لیے 4 ارب 30 کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی ہے۔ اس فنڈ سے پرائیویٹ پاور اینڈ انفراسٹرکچر بورڈ اور سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی کے اخراجات پورے کیے جائیں گے۔

حکام کے مطابق پاکستان مختلف بین الاقوامی فورمز پر اہم مقدمات کا سامنا کر رہا ہے، جن میں اسٹار ہائیڈرو پاور، ہالمور پاور، اور کے الیکٹرک کے مقدمات شامل ہیں۔ قانونی فیس اور ٹریبونلز کے اخراجات بروقت ادا نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کا مؤقف متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ مقدمات پاکستان کی مالی حیثیت پر اثر ڈال سکتے ہیں، کیوں کہ قانونی دفاع کے اخراجات اور ممکنہ جرمانے کی لاگت بڑھ سکتی ہے۔ وزارت خزانہ سے ضمنی گرانٹ کی درخواست کی گئی ہے تاکہ نقصانات کو کم کیا جا سکے۔

واضح رہے کہ ماضی میں ریکوڈک منصوبے پر ثالثی عدالت نے پاکستان پر 6 ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا تھا، جسے بعد میں کینیڈین کمپنی کے ساتھ تصفیہ کر لیا گیا۔ موجودہ مقدمات مبینہ معاہدہ خلاف ورزی اور ریگولیٹری مسائل سے متعلق ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں