بر مزارِ ما غریباں

مغلیہ خاندان نے ۱۵۲۶ء میں ظہیرُ الدین بابر کی دہلی میں تخت نشینی سے لے کر ۱۸۵۷ء میں بہادر شاہ ظفر کی رنگون میں جلا وطنی کے طویل عرصے تک ہندوستان پر حکومت کی۔ اگر اِن سالوں میں سے شیر شاہ سوری اور اُس کے جانشینوں کے اقتدار کے تقریباً ۱۵ سال (جنہیں “ہندوستان کی دوسری افغان حکومت” کا نام بھی دیا جاتا ہے) تفریق کر لیے جائیں، تو تب بھی مغلوں کی اِس سرزمین پر براہِ راست حکومت کا دورانیہ تقریباً ۳۱۶ سال بنتا ہے۔

مغلوں کا اصل وطن ماوراءُ النَّہر کا علاقہ تھا۔ وسطِ ایشیا کے جغرافیائی طور پر دریائے آمو (جیحون) اور دریائے سیر (سیحون) کے درمیان واقع خطے کو “ماوراءُ النَّہر” کا نام دیا جاتا ہے۔ ظہیرُ الدین بابر کی جنم بھومی، وادیٔ فرغانہ، بھی اُسی وسیع خطّے کا ایک اہم اور زرخیز حصہ ہے۔

قدرت، ہندوستان کے پہلے مغل حکمران بابر کو اُس کے چچازاد بھائی شیبانی خان کی چیرہ دستیوں کے ہاتھوں مجبور و مقہور بنا کر پہلے فرغانہ سے کابل اور قندھار تک لے آئی، اور پھر ہندوستان کے اقتدار کا پکا ہوا پھل اُس کی جھولی میں ڈال دیا۔

تمام مورخین کا اِس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ یہ ہندوستان کے دِگرگوں سیاسی حالات اور مرکزی عسکری طاقت کا ناپید ہونا ہی تھا، جس کا فائدہ اُٹھا کر اِس زیرک اور دلیر مغل نے یہاں تین صدیوں سے بھی زائد عرصے تک قائم و دائم رہنے والی اپنی اَولاد کی حکومت کی بنیاد ڈالی۔

مغلوں کے لگ بھگ تین صدیوں پر مشتمل اِس دورِ حکومت کو بالعموم ہندوستان کی ترقی اور خوش حالی کا دور قرار دیا جاتا ہے۔

ہندوستان کا مغلیہ خاندان اوراقِ تاریخ میں کئی حوالوں سے مشہور اور نمایاں رہا ہے، جن میں سے ایک اُن کی عمارت سازی کے فن کی کمال درجے تک سرپرستی، اور دوسرا اُن کے چھوٹوں بڑوں، سبھی کی شعر و سخن میں غیر معمولی دلچسپی ہے۔ ہمارے ہاں آج کل رائج سرکاری اہلِ کاروں کی گریڈز کے ذریعے درجہ بندی کا طریقۂ کار بھی مغل بادشاہ جلالُ الدین محمد اکبر کے رائج کردہ “منصب داری نظام” سے ماخوذ، اور اُسی کی ایک تدریجی شکل تصور کیا جاتا ہے۔ (تفصیل کیلئے دیکھئیے “آئینِ اکبری”، از ابوالفضل، جلدِ اوّل، ص: ۱۶۶)

تاہم اسی مغلیہ خاندان کے ایک کردار “نورجہاں” کو مغل خاندان کی باقی خواتین کی روایتی فنِّ شعر گوئی یا علم و ادب کی سرپرستی کے مقابلے میں، تخت و تاج کے معاملات اور اقتدار کی غلام گردشوں میں براہِ راست مداخلت کے سبب بھی یاد کیا (یا مطعون قرار دیا) جاتا ہے۔ یہ خاتون ایک زمانے میں اِس قدر بااثر بھی بنیں کہ اُن کا نام اپنے شوہر جہانگیر کے ساتھ شاہی سکّوں پر رائج ہوا(بحوالہ:”اقبال نامہ جہانگیری”، معتمد خان بخشی، ص: ۶۸ اور “دی کوائنز آف دی مغل ایمپررز آف ہندوستان”، اسٹینلے لین پول، ص: ۱۰۳)۔ اور یوں اُنہیں سکّوں پر اپنا نام درج کرانے والی پہلی ہندوستانی خاتون ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔

مغلیہ دور کی ٹکسالوں سے جاری کردہ شاہی سکّوں پر جہانگیر کے ساتھ ساتھ نورجہاں کا نام اِس شعر کے ساتھ نقش کیا گیا:

“بحکمِ شاہ جہانگیر یافت صد زیور
بہ نامِ نورجہاں پادشاہ بیگم زر”

(ترجمہ: بادشاہ جہانگیر کے حکم سے سونے نے اُس وقت سو گنا زیادہ حسن و زینت پائی، جب اُس پر بادشاہ بیگم نورجہاں کا نام ثبت کیا گیا۔)

نورجہاں کا اصل نام “مہرُ النِّساء” تھا۔ اُن کی پیدائش قندھار میں ہوئی، تاہم وہ اپنے خاندان کی ہندوستان نقلِ مکانی کے سبب وہاں سے آگرہ آگئیں۔ سولہ برس کی عمر میں اُن کی شادی علی قُلی استاجلو (جو شیر افگن کے نام سے مشہور تھا) سے کر دی گئی۔ اِس شادی سے صرف ایک بیٹی، لاڈلی بیگم، پیدا ہوئی تھی کہ شیر افگن ایک لڑائی میں قتل ہو گیا، اور یوں وہ بطورِ “مہرُ النِّساء” ہی جہانگیر بادشاہ کی سوتیلی والدہ سلیمہ سلطان بیگم کی خادمہ کے طور پر آگرہ کے شاہی محل میں آگئیں۔

قدرت کے کھیل بھی کیا نرالے ہیں! ۱۶۱۱ء میں جہانگیر نے اپنے محل میں منعقدہ جشنِ نَوروز کی تقریب میں بیوہ مہرُ النِّساء کو دیکھا اور اُس پر دل و جان سے فدا ہو گیا۔ اور یوں وہ اِس تقریب کے منعقد ہونے کے چند ہی دنوں بعد کنیز سے ترقی پاتے ہوئے جہانگیر کی منکوحہ بن کر بطورِ ملکہ حرمِ شاہی کا حصہ بن گئی۔

جہانگیر نے اپنی اِس بیسویں بیوی کو پہلے “نور محل بیگم” کا خطاب دیا اور پھر کچھ عرصے بعد وہ “نورجہاں بیگم” کے خطاب سے نواز دی گئی۔ اُس زمانے کی کتبِ تاریخ میں اُن کا تذکرہ اِسی خطاب کے ساتھ ملتا ہے۔ “اقبال نامۂ جہانگیری” میں اُنہیں صرف “بیگم” بھی لکھا گیا ہے۔

نورجہاں بیگم نے ملکہ بننے کے بعد جہانگیر کی متلوّن مزاجی کا بھرپور فائدہ اُٹھایا۔ پہلے وہ آہستہ آہستہ ہر انتظامی معاملے میں دخیل ہوئیں اور پھر سب معاملات اُن کے ہاتھ میں آگئے ۔ جہانگیر کے دربار سے وابستہ متعمد خان ، جو بخشی کے منصب پر متمکن تھے ، کے الفاظ میں :” سوائے خطبہ کے جتنی باتیں لوازمِ سلطنتِ فرمانروائی سمجھی جاتی تھی ، سب بیگم سے متعلق ہوگئیں ، تھوڑی دیر جھروکہ میں بیٹھتی تھی تو سب لوگ کورنش کو حاضر ہوکر احکام پر کان لگائے رہتے تھے ۔ کچھ دنوں کے بعد سکہ بھی بیگم کے نام کا چلایا گیا ۔ سکہ پر یہ شعر کندہ تھا:

بہ حکم شاہ جہانگیر یافت صد زیور
بنام نورجہاں بادشاہ بیگم زر”
(بحوالہ: اقبال نامہ جہانگیری ، ص: ۶۸)

اور صرف یہی نہیں ، جہانگیر کے بعد آنے والے سالوں میں بھی اُمورِسلطنت اپنے ہاتھ میں رکھنے کی نیت کے ساتھ نورجہاں نے شیر افگن سے ہونے والی اپنی بیٹی، لاڈلی بیگم، کی شادی بھی ۱۶۲۱ء میں شہزادہ شہریار مرزا (جہانگیر کے سب سے چھوٹے بیٹے) سے کروا دی۔ (بحوالہ: اقبال نامۂ جہانگیری، ص: ۱۴۴)

اِس شادی کے بعد نورجہاں کا رعب، دبدبہ اور اثر و رسوخ دوچند ہو گیا، کیونکہ اب وہ لاڈلی ملکہ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شہزادے کی ساس بھی تھیں۔ اور یہی نہیں، اِس جاہ طلب خاتون نے یہ جانتے ہوئے بھی کہ مغل اصولِ جانشینی کے تحت سب سے چھوٹے بیٹے کا تخت پر بیٹھنا ایک ناممکن فعل ہوگا، اپنے اِس داماد کو تختِ شاہی پر بٹھانے کی کوششوں کی سرخیل بھی بننا شروع کر دیا۔

نورجہاں کا اپنے داماد کو ہندوستان کے سنگھاسن پر بٹھانے کی اِن کوششوں میں دل و جان سے ملوث ہونا شاید اِس سبب سے بھی تھا کہ وہ جہانگیر کی وفات کے بعد بھی شاہی معاملات میں اجارہ داری سے دست بردار ہونے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں تھیں۔ اور اُن کی یہ خواہش غیر فطری بھی نہیں تھی؛ اقتدار کا نشہ ہے ہی ایسا کہ پیرانہ سالی میں اُترنے کے بجائے مزید چڑھتا ہے۔

جہانگیر کی زندگی کے آخری چند مہینوں میں، جب اُس کے بیٹوں میں تختِ ہندوستان پر قبضے کے لیے کھینچا تانی شروع ہوئی، نورجہاں نے اپنا تمام وزن اپنے داماد، مرزا شہریار، کے پلڑے میں ڈالا۔ لیکن شومیِ قسمت، اُن کی تمام کوششیں رائیگاں گئیں، اور جونہی جہانگیر کا انتقال ہوا، باقیوں کے مقابلے میں شاہ جہان ہی اپنے زورِ بازو سے ۱۶۲۸ء میں آگرہ میں اپنے باپ کے تخت پر براجمان ہو گیا۔ (بحوالہ: اقبال نامۂ جہانگیری، معتمد خان بخشی، ص: ۲۹۸)

نورجہاں کے لیے سب سے بڑا سانحہ یہ برپا ہوا کہ اُن کا داماد، مرزا شہریار، اقتدار کی بے رحم جنگ میں ۱۶۲۸ء میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ (بحوالہ: اقبال نامۂ جہانگیری، معتمد خان بخشی ، ص: ۲۹۸)

شاہ جہاں نے تخت نشین ہونے کے بعد دیگر شاہی فرمانوں کے ساتھ اپنی سوتیلی ماں، “نورجہاں”، کو گوشہ نشینی اختیار کرنے کی شرط کے ساتھ لاہور منتقل کیے جانے کا زبانی فرمان بھی جاری کیا۔ مورخین کے مطابق یہ بھی عین ممکن تھا کہ وہ کسی سخت تادیبی کارروائی کا نشانہ بنتیں، لیکن اُن کے بھائی آصف خاں کا مغل دربار میں اثر و رسوخ اُن کے کام آ گیا۔ آصف خاں، شہریار کے مقابلے میں شاہ جہان کا حمایتی اور طرف دار تھا، کیونکہ اُس کی دُوربین نگاہوں نے شاہ جہان کی عسکری اور سیاسی طاقت کو بھانپ لیا تھا اور وہ اپنی بہن اور اُس کے داماد کی حمایت کر کے خود کو مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ خود آصف خاں نے اپنی بہن کو تحویل میں لے کر شاہ جہان کو آگاہ کیا اور شاہی فرمان کے اجرا کے بعد اُسے لاہور منتقل کر دیا۔ نورجہاں کا دو لاکھ روپے سالانہ وظیفہ بھی آصف خاں کی وجہ سے مقرر ہوا۔

نورجہاں ۱۶۲۸ء میں جب لاہور آئیں تو اُن کی بیوہ بیٹی، لاڈلی بیگم، اور یتیم نواسی، مہرُ النِّساء، جس کا نام اُس کی ماں نے اپنی نانی کے نام پر رکھا تھا، بھی اُن کے ہمراہ اِس شہرِ بے مثال میں منتقل ہو گئیں۔ نورجہاں کا سیاسی کردار اب مکمل طور پر ختم ہو چکا تھا اور وہ ایک عضوِ معطّل سے بڑھ کر کچھ نہیں تھیں۔ شاہ جہان نے نہ صرف اُن کے نام کے سکّوں کے اجرا کا سلسلہ ختم کر دیا بلکہ اُن کے نام کے ساتھ جاری ہونے والے پرانے سکّوں کو بھی غیر مؤثر قرار دے دیا۔ “شاہ جہاں نامہ” میں جہاں کہیں شاہ جہاں کے لاہور آنے کا تذکرہ ملتا ہے، وہ نورجہاں، لاڈلی بیگم اور مہرُ النِّساء کے ذکر سے خالی ہوتا ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ شاہی دربار، حتّیٰ کہ مغل افسر شاہی تک، اپنے آپ کو اِن خواتین سے مکمل طور پر لاتعلّق کر چکی تھی۔ (بحوالہ: “شاہ جہاں نامہ”، از محمد صالح کمبوہ، ص: ۲۴۳ تا ۲۴۵)

نورجہاں کا لاہور آنا اُس کے لیے ایک نعمتِ غیر مترقّبہ کی مانند تھا، کیونکہ اُسے اپنے عالمِ شباب ہی سے لاہور سے بڑی محبت تھی۔ اِس وابستگی اور محبت کا اظہار اُنہوں نے اپنے ایک شعر کی صورت میں بھی کیا:

لاہور را بہ جاں برابر خریدہ ایم
جاں دادہ ایم و جنّتِ دیگر خریدہ ایم

(ترجمہ: لاہور کو ہم نے جان کے برابر قیمت پر حاصل کیا ہے۔ ہم نے جان قربان کر کے گویا ایک نئی جنّت خرید لی ہے۔)

لاہور میں سیاسی طور پر مکمل غیر فعال ہونے کے بعد نورجہاں نے وقت گزاری اور اپنا دل بہلانے کے لیے باغات لگوانے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ دریائے راوی کے پار اُنہوں نے “باغِ دل کُشا” کے نام سے ایک ایسا باغ لگوایا جو اپنے نام کی طرح دل کو کھینچ لینے والا تھا۔ جہانگیر کا جب ۱۶۲۷ء میں راجوری کے قریب انتقال ہوا تو اُن کی قبر اُسی باغِ دل کُشا میں بنائی گئی۔ (بحوالہ: “اقبال نامۂ جہانگیری”، ص: ۲۸۹) بعد ازاں شاہ جہان کی طرف سے مقرر کردہ شاہی مصارف سے اُس قبر کے گرد ایک شاندار مقبرہ بھی تعمیر کر دیا گیا۔

نورجہاں کے بھائی آصف خاں کا ۱۶۴۱ء میں انتقال ہوا تو اُن کی میت بھی لاہور لائی گئی، جہاں اُنہیں جہانگیر کے مقبرے کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ نورجہاں کی زندگی ہی میں شاہی مصارف سے اُس قبر کے اوپر بھی مقبرے کی تعمیر شروع کر دی گئی۔

نورجہاں اور اُن کے ساتھ لاہور میں مقیم دیگر دو خواتین، یعنی اُن کی بیٹی لاڈلی بیگم اور نواسی مہرُ النِّساء، کی ایک بڑی مصروفیت جہانگیر اور آصف خاں کے مزارات پر حاضری کی ہوتی تھی۔ بلکہ نورجہاں نے اپنے شوہر جہانگیر کے مزار پر عظیم الشان مقبرہ اپنی آنکھوں سے تعمیر ہوتے دیکھا۔ شاہی مصارف سے اُن کے بھائی کے مزار پر مقبرہ بننے کا عمل جونہی شروع ہوا تو اُنہوں نے اپنے سالانہ دو لاکھ روپے کے وظیفے میں سے بچی ہوئی رقم سے اپنی زندگی ہی میں اپنا مقبرہ بھی بنوانا شروع کر دیا۔ وہ اپنی بیٹی لاڈلی بیگم کو بھی اِس استدلال کے ساتھ اپنے مقبرے میں دفن ہونے کی تاکید کرتی رہیں کہ دونوں ماں بیٹی اِس دنیا کی طرح بعد از مرگ بھی ایک ساتھ رہیں۔

نورجہاں کا انتقال ۱۶۴۵ء میں ہوا، جبکہ لاڈلی بیگم کا غالباً ۱۶۵۹ء میں اِس دنیا سے کوچ ہوا۔ دونوں کی وصیتوں کے مطابق اُن کی قبریں اُسی مقبرے کے اندر ایک دوسرے کے پہلو میں بنائی گئیں، جو نورجہاں نے اپنے ذاتی سرمایے سے اپنی زندگی ہی میں تعمیر کروایا تھا۔

نورجہاں چونکہ شاعرہ بھی تھیں اور “مخفی” تخلّص کے ساتھ شعر کہتی تھیں، (بحوالہ: ریاضُ الشُّعراء، ص: ۳۳۱) اس لیے اُنہوں نے اپنی زندگی ہی میں اپنا ایک شعر اپنی قبر کے کتبے کے لیے تجویز کیا:

بر مزارِ ما غریباں، نی چراغی، نی گُلے
نہ پرِ پروانہ سوزد، نہ صدائے بُلبُلے

(ترجمہ: ہماری غریبوں کی قبر پر نہ کوئی چراغ روشن کرتا ہے اور نہ کوئی پھول چڑھاتا ہے؛ اس لیے نہ یہاں کسی پروانے کا پر جلتا ہے اور نہ کسی بلبل کی نغمہ سرائی سنائی دیتی ہے۔)

کچھ کتب اور حوالہ جات میں یہ شعر اِن الفاظ کے ساتھ بھی درج ملتا ہے:

بر مزارِ ما غریباں، نی چراغی، نی گُلے
نہ پرِ پروانہ یابی، نہ صدائے بُلبُلے

(ترجمہ: ہماری غریبوں کی قبر پر نہ کوئی چراغ روشن کرتا ہے اور نہ کوئی پھول چڑھاتا ہے؛ چنانچہ نہ یہاں کسی پروانے کا پر دکھائی دیتا ہے اور نہ کسی بلبل کی آواز سنائی دیتی ہے۔)

نورجہاں نے اپنی آنکھوں سے اپنے نام والا سکہ ختم اور ممنوع ہوتے، اور اُس کی بجائے شاہ جہان کا سکہ چلتا دیکھا۔ وہ جہانگیر کے بادشاہ ہوتے ہوئے شاہ جہان کے دونوں بڑے بیٹوں (دارا شکوہ اور اورنگزیب) کو سیاسی اور انتظامی معاملات میں دخیل ہوتا بھی دیکھ چکی تھیں۔ چنانچہ پہلے شاہ جہان کی تخت نشینی، اور پھر دارا شکوہ اور اورنگزیب کے سیاسی تحرک کو اپنی دُوربین نگاہوں کے سامنے رکھ کر نورجہاں یہ بات بخوبی جان چکی تھیں کہ ہندوستان میں اب اُن کی باقی ماندہ زندگی اقتدار سے محرومی اور حالتِ غریبی ہی میں بسر ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ اُنہوں نے اپنے جملہ اشعار میں “بر مزارِ ما غریباں” سے شروع ہونے والا شعر منتخب کیا۔

واضح رہے کہ عربی زبان کے لفظ “غریبی” کا اطلاق صرف مالی طور پر کمزور ہونے یا حالتِ تنگ دستی پر نہیں ہوتا، بلکہ یہ کثیرالمعانی لفظ فارسی لغات میں بے کسی، اجنبیت اور فروتنی (منصب و مرتبے سے محرومی ) کے معانی کے ساتھ بھی درج ملتا ہے۔ (بحوالہ: لغت نامۂ دہخدا، ڈیجیٹل ایڈیشن)

نورجہاں کے انتقال کے وقت اورنگزیب کی عمر ۲۷ سال کی تھی۔ شاہ جہان کی زندگی ہی میں وہ ۱۶۵۸ء میں ہندوستان کے تخت پر زور زبردستی سے متمکن ہو گیا۔ دارا شکوہ کی سرپرستی اور اُس کی طرف جھکاؤ کے پیشِ نظر اُس نے اپنے باپ شاہ جہان کو آگرہ کے قلعے میں نظر بند کروا دیا، جہاں وہ اپنی بیٹی جہاں آرا بیگم کے ساتھ دن بھر ایک کھڑکی سے اپنے بنوائے تاج محل کو تکتا اور اپنے نصیب پر کُڑھتا رہتا تھا۔

اورنگزیب نے تخت پر بیٹھنے کے بعد “عالمگیر” کا لقب اختیار کیا اور اِس آخری طاقتور مغل بادشاہ نے ۴۹ سال ہندوستان پر حکومت کرنے کے بعد ۸۸ سال کی عمر میں ۱۷۰۷ء میں اِس جہانِ فانی کو الوداع کہا۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کے اِس طاقت ور ترین بادشاہ، اورنگزیب عالمگیر، نے بھی بعد کی روایات کے مطابق اپنے موزوں کردہ جس شعر کو اپنی سادہ سی قبر پر لکھوانے کی وصیت کی، وہ بھی “بر مزارِ ما غریباں” کے الفاظ کا حامل تھا۔ شعر ملاحظہ ہو:

از طلا و نقرہ گر سازند گنبد، اغنیا
بر مزارِ ما غریباں، گنبدِ گردوں بس است

(ترجمہ: مال و دولت والے لوگ اپنی قبروں پر سونے اور چاندی کے گنبد بنواتے ہیں، لیکن ہم غریبوں کی قبر پر نیلے آسمان کا گنبد ہی کافی ہے۔)

کتنا عجیب معاملہ ہے کہ تخت سے اُتاری گئی نورجہاں بیگم نے اپنی قبر کے لیے جو استعارہ چُنا، نصف صدی تک ہندوستان پر بلا شرکتِ غیرے حکومت کرنے والے اورنگزیب عالمگیر نے بھی اپنی آخری آرام گاہ کے لیے اُسی کو منتخب کیا—“بر مزارِ ما غریباں”۔

شاید یہی تاریخ کا سب سے بڑا سبق بھی ہے۔ دائمی اقتدار صرف اللہ جلّ شانہٗ ہی کو زیبا ہے۔ دُنیوی اقتدار کی بھول بھلیّوں میں کھو جانے والوں کو شاید عمر کے کسی نہ کسی موڑ پر یہ ادراک ہو ہی جاتا ہے کہ سلطنتیں، فتوحات، جاہ و جلال، سکّے، محلات اور تخت و تاج، سب وقت کے دھارے میں بہہ جانے والی چیزیں ہیں۔
لاہور کے شاہدرہ میں نورجہاں کی خاموش قبر ہو یا خُلدآباد میں اورنگزیب عالمگیر کا بے سقف مزار، “کان نہ رکھنے والوں” (وَلَهُمْ آذَانٌ لَا يَسْمَعُونَ بِهَا) کو اِن میں سے ممکن ہے کوئی آواز نہ آتی ہو، لیکن “کان رکھنے والوں” کو اِن دونوں سے ایک ہی آواز سنائی دیتی ہے۔

رہے رب کا نام

سعید احمد شیخ ریڈیو پاکستان وزارتِ اطلاعات و نشریات کے سینئر افسر اور آجکل ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور تصوف، تاریخ، ثقافت، ادب، ابلاغِ عامہ اور قومی ورثے سے متعلق موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔