خلجی دور کے ایک درویش کی داستان جس کے قتل کو ہندوستان میں قحط سالی کا موجب گردانا گیا

۱۲۹۴ء کے جُون کے مہینے کا کوئی دن تھا جب اُسے ہاتھی کے پاؤں کے نیچے کُچلوا کر بے دَردی سے قتل کیا گیا۔ یہ اُس زمانے کی چند بھیانک سزاؤں میں سے ایک تھی۔
اُسی روز عصر کے وقت ایک سخت سیاہ آندھی آئی۔ سیاہ بھی ایسی کہ آسمان تاریک ہو گیا۔ جن لوگوں نے اُس درویش کی موت کا رُوح فرسا منظر دیکھا تھا یا اِس کے بارے میں سُنا تھا، اُن سب کی مشترکہ رائے یہی تھی کہ یہ سیاہ و سُرخ آندھی اِس اندوہناک قتل کا نتیجہ اور قدرت کی طرف سے اِس قبیح فعل پر اپنی ناراضگی کا اظہار ہے۔

ویسے تو گرمیوں کے موسم میں ہندوستان میں آندھیوں کا آنا ایک معمول کی بات سمجھی جاتی ہے، لیکن اِس آندھی کو اِس کی سیاہ رنگت کے سبب غیر معمولی سمجھا گیا۔ یعنی یہ دن میں رات کا سا سماں پیدا کر دینے والی منفرد آندھی تھی۔

صرف یہی نہیں، ۱۲۹۴ء کا یہ پورا سال بارشوں کے بغیر بھی گُزرا۔ زمینیں چونکہ زیادہ تر بارانی تھیں، اِس لیے خشک سالی کے باعث پورا مُلکِ ہندوستان ہولناک قحط کی لپیٹ میں آ گیا۔
درویش کا یہ اندوہناک قتل سلطان جلال الدین فیروز خلجی کی آنکھوں کے سامنے اُس کے بیٹے ارکلی خان کے حکم پر عمل میں لایا گیا تھا۔

سلطان جلال الدین فیروز خلجی، خاندانِ غلاماں کے آخری بادشاہ معز الدین کیقباد کی موت کے بعد ہندوستان کے تخت پر بیٹھا تھا۔ یہ “خلجی خاندان” کا پہلا سلطانِ ہند تھا۔ ۱۳ جون ۱۲۹۰ء کو جب اُس نے تخت و تاج سنبھالا، تب سے لے کر اِس قتل کے دن تک اُسے ہندوستان کی زمامِ اقتدار سنبھالے ابھی مُشکل سے چار ہی سال کا عرصہ گزرا تھا۔

بارشوں کے نہ ہونے کے سبب رُونما ہونے والی قحط سالی سلطان جلال الدین فیروز خلجی کے لیے بالکل نیا تجربہ اور ایک مشکل اور کڑا امتحان تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے غلے کی نایابی کا عالم یہ ہوا کہ گیہوں (گندم) کی قیمت پانچ گنا سے بھی تجاوز کر گئی۔ جہاں پہلے ایک جیتل میں پانچ سوا پانچ سیر گیہوں باآسانی مل جاتا تھا، وہاں اب ایک جیتل میں ایک سیر بھی ڈھونڈے سے نہ ملتا تھا۔

جیتل دہلی سلطنت میں رائج تانبے کا ایک چھوٹا سکہ تھا، جو عام خرید و فروخت اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ اِس دور میں ایک ٹنکہ چاندی تقریباً اڑتالیس (۴۸) جیتل کے برابر شمار کیا جاتا تھا۔

باقی ہندوستان کے مقابلے میں شیوالک (ہمالیہ کے جنوبی دامن میں واقع ہماچل پردیش، جموں، اتراکھنڈ اور پنجاب کے بعض پہاڑی حصّوں پر مشتمل علاقے) کا حال سب سے بُرا تھا۔ وہاں غلہ بالکل ناپید ہوا تو مقامی ہندوؤں نے اپنے بال بچوں سمیت دہلی کا رُخ کیا۔ اُن کا خیال تھا کہ دارالخلافہ میں مہنگا ہی سہی، لیکن گیہوں بہرحال دستیاب ہوگا، مگر جب اُنہیں یہاں بھی غلہ نہ ملا تو وہ بیس بیس، تیس تیس کے گروہوں کی صورت میں (“رسمِ جوہر” میں آگ کی چِتا میں اجتماعی طور پر جل کر مرنے کی مانند) اپنے مقدس دریائے جمنا میں کُود کر جانیں دینے لگے۔

دہلی میں مقیم مسلم فُقراء و مَساکین، جو بالعموم امراء سے کچھ لینا اپنی خُودداری کے خلاف سمجھتے تھے، تک بھی صدقات کی صورت میں روزینہ لینے پر مجبور ہو گئے۔ (بحوالہ: “تاریخِ فیروز شاہی” اردو ترجمہ از آفتاب اصغر ،ص :۱۲۶)

اُس زمانے کے نامور ترین مؤرخ اور قحط سالی کے اِن واقعات کے چشم دید گواہ ضیاء الدین برنی نے اپنے اِن الفاظ کہ “بزرگان گفتہ اند درویش کُشتن شُوم باشد و ہیچ پادشاہ را نیکو نیامدہ است”(ترجمہ: بزرگ کہتے ہیں کہ کسی بھی درویش کا قتل منحوس فعل ہوتا ہے اور کبھی کسی بادشاہ کے لیے اچھا ثابت نہیں ہوتا) کے ذریعے بالواسطہ یہ تاثر بھی دینے کی کوشش کی ہے کہ سیاہ آندھی کی طرح یہ قحط سالی، جس نے لوگوں کو اجتماعی خودکشیوں پر مجبور کیا، بھی قدرت کی طرف سے اُس درویش کے قتل ہی کا شاخسانہ تھی۔

ضیاء الدین برنی نے مزید یہ بھی لکھا ہے کہ اِس درویش کے قتل کے بعد سلطان جلال الدین فیروز خلجی کے عہدِ حکومت میں اَبتری کا آغاز ہوا اور اُس کے خاندان کے چِیدہ افراد، جن میں وہ خود، اُس کے بیٹے ارکلی خان اور قَدَر خان اور اُس کی ملکہ، مَلِکۂ جہاں، بالخصوص شامل تھے، یکے بعد دیگرے مصائب و آلام کا شکار ہوتے چلے گئے۔(بحوالہ: “تاریخِ فیروز شاہی” فارسی، ص: ۲۰۹)

سلطان جلال الدین فیروز خلجی کے بارے میں اُس عہد کے مؤرخین کی مجموعی رائے یہی ہے کہ وہ ایک عادل، رحم دل اور نرم خُو سلطان تھا۔ تاہم یہی مؤرخ اِس اَمر پر سخت حیرت کا اظہار کرتے ہیں کہ جب اَوصافِ حمیدہ اور کثرتِ حلم و کرم رکھنے والے اِس سلطانِ ہند کی آنکھوں کے سامنے ایک درویش کو ہاتھی کے پاؤں تلے کچلوا کر اندوہناک موت دی گئی تو یہ کیونکر خاموش اور بے تحرک رہا۔

اُس عہد کی کُتبِ تاریخ، بمثلِ “تاریخِ فیروز شاہی”، “فتوحُ السلاطین” اور “تاریخِ مبارک شاہی” وغیرہ میں ہاتھی کے پاؤں تلے کُچلوا کر بے دردی سے قتل کیے جانے والے اُس درویش کا نام “سیدی مولہ” درج ملتا ہے۔ تاہم بعد کے بعض مؤرخین اور تذکرہ نگاروں نے “مولہ” کی اِملا “مولا” بھی رقم کی ہے۔ مزید برآں، “تاریخِ فیروز شاہی” کے اُردو مترجم نے “سیدی” کو “سَیِّدی” (یعنی ی پر تشدید کے ساتھ) لکھا ہے۔

ہندوستان کے وہ باشندے جنہوں نے سلطان جلال الدین فیروز خلجی کے عہد کی متذکرۂ بالا ہولناک قحط سالی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اُس کے مصائب جھیلے، وہ اپنے بیٹوں، بیٹیوں، پوتوں اور نواسوں کو یہ بات پورے وثوق کے ساتھ باور کرا کے اِس دُنیا سے رُخصت ہوئے کہ یہ سنگین قحط اُسی درویش، سیدی مولا، کے ناحق قتل کا نتیجہ تھا۔ یوں کئی نسلوں تک ہندوستان میں یہ بات اَفسانۂ عامّہ (Folklore) بنی رہی کہ ۱۲۹۴ء کی قحط سالی کی نحوست اُسی بے گناہ درویش کے ساتھ ہونے والے ظلم پر قدرت کی طرف سے ملنے والی سزا تھی۔

سیدی مولہ کی شخصیت اور اُن کے اطوار و معمولات کے بارے میں سب سے زیادہ معلومات ضیاء الدین برنی کے ہاں ملتی ہیں۔ وہ “ تاریخِ فیروز شاہی” میں “اُو را زیارت کردہ ‌اَم و ہم‌لُقمہ شدہ ‌اَم” (ترجمہ: میں نے خود سیدی مولا کی زیارت کی ہے اور اُن کے ساتھ کھانا بھی کھایا ہے) سے اپنی بات شروع کرتے ہیں، اور پھر لکھتے ہیں:
“سیدی مولہ ایک درویش تھے جو ولایتِ مُلکِ بالا (شمالی علاقے، یعنی ایران اور اُس سے آگے کے علاقوں) سے عہدِ بلبنی کے ابتدائی زمانے میں دہلی آئے تھے۔ اُن کے طور طریقے بہت عجیب تھے۔ خرچ کرنے اور لوگوں کو کھانا کھلانے میں وہ بے نظیر تھے۔

جمعہ کو جامع مسجد میں نماز کے لیے نہیں آتے تھے۔ اگرچہ نماز پڑھتے تھے، لیکن نمازِ باجماعت ادا کرنے کی شرائط، جیسا کہ بزرگانِ دین پابندی کے ساتھ ادا کرتے ہیں، وہ پوری نہیں کرتے تھے۔ مجاہدہ اور ریاضت بہت کرتے تھے۔ صرف ایک کپڑا اور ایک چادر استعمال کرتے تھے۔ چاول کی روٹی اور ملائم گوشت اُن کی غذا تھی۔
بیوی، کنیز یا کوئی خدمتگار نہیں رکھتے تھے اور کسی خواہشِ نفس کو پورا کرنے کے درپے نہ ہوتے تھے۔ کسی سے کوئی چیز قبول نہیں کرتے تھے، لیکن خرچ اِس قدر کرتے تھے کہ لوگ حیران رہ جاتے تھے۔ اکثر لوگوں کا کہنا تھا کہ سیدی مولا علمِ سیمیا جانتے تھے۔

اُنہوں نے اپنے دروازے کے سامنے میدان میں ایک نہایت شاندار خانقاہ بنوائی تھی، جس پر ہزاروں روپے صرف ہوئے تھے۔ اِس خانقاہ میں کثرت سے لوگوں کو کھانا کھلایا جاتا تھا۔ سمندر اور خشکی، دونوں راستوں سے ہر طرف کے مسافر وہاں آتے تھے۔ روزانہ دو وقت دسترخوان بچھایا جاتا تھا۔ اُس دسترخوان پر انواع و اقسام کی ایسی نعمتیں پیش کی جاتی تھیں جو بڑے بڑے مَلِکوں اور خانوں کے دسترخوانوں پر بھی میسر نہ آتی تھیں۔

اِسی خانقاہ میں وہ لوگوں کو جمع کرتے تھے۔ اُس کے اخراجات کے لیے روزانہ دو ہزار مَن میدہ، پانچ سو بھیڑوں کا گوشت، دو سے تین سو مَن شکر اور ایک سے دو سو مَن نبات خریدی جاتی تھی۔ خانقاہ کے دروازے کے سامنے ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا تھا۔

سیدی مولہ کے پاس نہ کوئی گاؤں تھا، نہ وظیفہ، نہ اِنعام، اور نہ ہی وہ کسی سے نذر و نیاز یا نظرانہ قبول کرتے تھے۔ اِس کے باوجود تواتر کے ساتھ لوگوں کا بیان تھا کہ جب کبھی وہ کسی کو قیمت یا بخشش دینا چاہتے تو سامان فروخت کرنے والے یا لینے والے سے کہتے: جاؤ، فلاں پتھر یا فلاں اینٹ کے نیچے چاندی کے تنکے رکھے ہیں، وہ لے لو۔
چنانچہ وہ ایسا ہی کرتے اور طاق، پتھر یا اینٹ کے نیچے سے چاندی کے تنکے برآمد ہو جاتے۔ وہ ایسے معلوم ہوتے تھے گویا ابھی دارُالضرب میں ڈھالے گئے ہوں یا ابھی سانچے سے نکالے گئے ہوں۔اُن کے در پر ہر وقت لوگوں کا ہجوم رہتا تھا اور اُمراء، اَکابر اور مشاہیر کی بڑی تعداد اُن کی خانقاہ میں حاضر رہتی تھی۔ “

ضیاء الدین برنی کے مطابق، اُنہوں نے یہ بھی سُنا کہ سیدی مولہ دہلی آنے کے بعد دو برس تک حضرت شیخ فرید الدین گنجِ شکرؒ کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے۔ ایک روز بابا فریدؒ نے تنہائی میں اُنہیں نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر دہلی میں رہنا ہے تو اپنی خانقاہ کا دروازہ ملوک و اُمراء پر بند رکھنا، کیونکہ جو درویش بادشاہوں اور امیروں سے میل جول بڑھاتا ہے، وہ اپنی عاقبت خود خراب کرتا ہے۔

برنی کے مطابق اگرچہ سیدی مولہ نے یہ نصیحت سُنی، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ اُن کی خانقاہ میں اُمراء، لشکری سرداروں، اَکابرینِ سلطنت اور بڑے بڑے مشاہیر کی آمدورفت بڑھتی چلی گئی۔

اِسی غیر معمولی مقبولیت، ہزاروں معتقدین کے اژدھام اور بااثر طبقے کی مسلسل آمدورفت نے بالآخر سلطان جلال الدین فیروز خلجی کے بعض حاشیہ نشینوں کو یہ وسوسہ پیدا کرنے کا موقع دیا کہ یہ شخص محض خانقاہ چلانے والا ایک سادہ درویش نہیں رہا، بلکہ سلطنت کے خلاف ایک سیاسی طاقت کا رُوپ دھارتا جا رہا ہے۔

چنانچہ سلطان جلال الدین فیروز خلجی کو یہ بھی باور کرایا گیا کہ سیدی مولہ اُس کی حکومت کا تختہ اُلٹنے کا ارادہ رکھتا ہے، اُسے قتل کر کے خود تختِ دہلی پر بیٹھنا چاہتا ہے، اور مرحوم سلطان ناصر الدین کی ایک شہزادی سے نکاح کر کے اپنی حکومت کو شرعی جواز دینا چاہتا ہے۔ مزید یہ کہ وہ قاضی جلال کاشانی کو قاضیُ القُضاۃ مقرر کرنے اور سلطنت کے بڑے بڑے مناصب و اقطاع پہلے ہی اپنے حامیوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بھی بنا چکا ہے۔

اِنہی الزامات کی بنیاد پر سیدی مولا اور اُن کے چِیدہ ساتھیوں کو گرفتار کر کے شاہی دربار میں پیش کر دیا گیا۔سب ملزمان نے اپنے خلاف عائد کیے گئے الزامات سے یک زبان ہو کر انکار کیا۔ اُس زمانے میں ملزموں کو مار پیٹ کر یا اذیت دے کر اِقرارِ جُرم کرانے کا رواج نہ تھا، اِس لیے اُن سے جبراً اعتراف بھی نہ کرایا گیا۔چونکہ سازش کی خبر دینے والا صرف ایک شخص تھا اور ملزم بھی مسلسل انکار کر رہے تھے، اِس لیے سلطان جلال الدین فیروز خلجی ، خواہش کے باوجود بھی ، سیدی مولہ کے خلاف کوئی قطعی حکم جاری نہ کر سکا۔

آخرکار بہارپور کے میدان میں ایک بہت بڑی آگ روشن کی گئی اور یہ تجویز سامنے آئی کہ ملزموں کو اِس آگ میں داخل کیا جائے؛ جو سچا ہوگا، آگ اُسے نقصان نہ پہنچائے گی، اور جو جھوٹا ہوگا، وہ جل جائے گا۔

سلطان نے عُلماء سے اِس طریقۂ آزمائش کے جواز کے بارے میں فتویٰ طلب کیا، لیکن عُلماء نے کہا کہ آگ کی فطرت جلانا ہے؛ وہ نیک و بد اور سچے و جھوٹے میں امتیاز نہیں کرتی، اِس لیے اُسے حق و باطل کے فیصلے کا ذریعہ نہیں بنایا جا سکتا۔ چنانچہ آگ کے ذریعے آزمائش کا یہ ارادہ ترک کر دیا گیا۔

سلطان فیروز الدین خلجی کے سامنے جب سیدی مولہ کو باندھ کر پیش کیا گیا وہ اُن سے بحث و تکرار کرنے لگا۔ اِس موقع پر شیخ ابوبکر طوسی حیدری اور دوسرے حیدری قلندر بھی وہاں موجود تھے۔ سلطان نے اُن کی طرف متوجہ ہو کر کہا: “اِس درویش سے میرا انصاف کرو۔” سلطان کے یہ الفاظ سنتے ہی ایک حیدری قلندر، جس کا نام “بَہری” بتایا گیا ہے، سیدی مولہ پر جھپٹ پڑا۔ اُس نے استرے سے اُن کے جسم پر کئی وار کیے اور پھر ایک بڑی جَوال دوز سوئی سے اُنہیں زخمی کر دیا۔

سیدی مولہ ابھی اِن زخموں سے تڑپ ہی رہے تھے کہ سلطان کے فرزند اَرکلی خان نے محل کے جھروکے سے ہاتھی بانوں کو اشارہ کیا۔ اشارہ پاتے ہی اُنہوں نے ایک ہاتھی سیدی مولہ پر دوڑا دیا۔ ہاتھی نے اُنہیں پاؤں تلے روند ڈالا اور یوں وہ قتل کر دیے گئے۔

ضیاء الدین برنی اِس اقدام پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اُسے سلطان جلال الدین فیروز خلجی جیسے حلیم، رحم دل اور درویش دوست بادشاہ کے شایانِ شان قرار نہیں دیتا۔ عصامی اور یحییٰ بن احمد سِرہندی (مصنفِ تاریخِ مبارک شاہی) کی روایات بھی مجموعی طور پر اِس اَمر کی تائید کرتی ہیں کہ سیدی مولہ کو کسی باقاعدہ اور ثابت شدہ شرعی جُرم کی سزا کے طور پر نہیں، بلکہ سیاسی بدگمانی، درباری اشتعال اور اچانک اختیار کیے گئے تشدد کے نتیجے میں ایک نہایت اندوہناک موت دی گئی۔
“تاریخِ مبارک شاہی‘‘ میں ایک بڑی اچھوتی بات بھی مذکور ہے، اور وہ یہ کہ سیدی مولہ نے اپنی موت سے تقریباً ایک ماہ قبل یہ رباعی پڑھنا شروع کر دی تھی:

در مطبخِ عشق جز نکو را نکُشند
لاغر صفتان و زشت خو را نکُشند
گر عاشقِ صادقی، از کُشتن مگریز
مردِ مُردار بود، ہر آنچہ او را نکُشند

(ترجمہ): عشق کے مطبخ میں صرف نیک لوگوں ہی کو ذبح کیا جاتا ہے؛ کمزور اور بدخو لوگوں کو نہیں۔ اگر تُو سچا عاشق ہے تو قتل ہونے سے نہ بھاگ، کیونکہ جسے قتل نہ کیا جائے، وہ مردِ مُردار ہے۔
(بحوالہ: “تاریخِ مبارک شاہی” ، ص: ۱۳۹)

ایسا گُمان گزرتا ہے کہ سیدی مولہ کو اپنی اندوہناک موت کی خبر ہو چکی تھی اور وہ اِس رُباعی کے ذریعے اپنے انجامِ زندگی اور انعامِ قبولیت کے درمیانی فاصلے کو جلد اور بطریقِ احسن طے کرنے کی سعی میں تھے۔

آج بھی تاریخ کا کوئی بینا اور سامع طالبِ علم، ہندوستان کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے، جب خلجی خاندان کے تقریباً تیس سالہ دورِ حکومت کا تحقیقی اور تنقیدی جائزہ لیتا ہے، یا برصغیر میں قرونِ وسطیٰ کی غیر انسانی تعزیروں کا احاطہ کرتا ہے، یا اس سرزمین پر آنے والی قحط سالیوں کے تاریخی تسلسل کا سراغ لگاتا ہے، تو اُس کی چشمِ تصور قرطاسِ ابیض پر سیدی مولہ کا ایک نورانی، ہنستا مُسکراتا پیکر دیکھتی ہے، جو دبے پاؤں اُس کے قریب آتا ہے، اُس کے کان میں“ در مطبخِ عشق جز نکو را نکُشند” (عشق کے مطبخ میں صرف اچھوں ہی کو ذبح کیا جاتا ہے) کی سرگوشی کرتا ہے اور پھر یکایک افق کی بُلندیوں میں کہیں گُم ہو جاتا ہے۔

سعید احمد شیخ ریڈیو پاکستان وزارتِ اطلاعات و نشریات کے سینئر افسر اور آجکل ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔کئی کتابوں کے مصنف ہیں اور تصوف، تاریخ، ثقافت، ادب، ابلاغِ عامہ اور قومی ورثے سے متعلق موضوعات پر باقاعدگی سے لکھتے ہیں۔