ملتان کے نَو تعمیر شُدہ مرکزی قیدخانے، جسے انگریز سرکار نے “ملتان سنٹرل جیل” کا نام دیا ہے، کی ایک خاموش کوٹھڑی میں رکھے گراموفون سے اچانک ایک دل کو لُبھا لینے والی زنانہ آواز گونجتی ہے:
جڈاں جایم، پا کر جھولی
کر وین ڈِتّی، ماں لولی!!
سُروں کی پُختگی اور اندازِ گائیکی سے یہ اندازہ لگانے میں کوئی دِقت نہیں رہتی کہ گراموفون پر گونجنے والی آواز غیر معمولی ہُنر اور فنی استعداد کی حامل کسی گائیکہ کی ہے۔
گراموفون بجتے ہی کوٹھڑی کے دونوں قیدی شاعر کے کلام اور گائیکہ کی آواز، دونوں کے سحر میں کھو جاتے ہیں۔
یہ دونوں قیدی تاجِ برطانیہ کے نافذ کردہ “پرِزنز ایکٹ، ۱۸۹۴ء” کے تحت ۱۹۳۰ء میں قائم ہونے والی ملتان سنٹرل جیل کے پنجاب جیل مینول کے مطابق “اے کلاس” کے قیدی ہیں۔
ان دو قیدیوں میں سے ایک کو یہ خصوصی درجہ اُس کے وسیع زرعی رقبے اور سماجی مرتبے کے باعث ملا ہے، کیونکہ وہ ۱۸۸۰ء میں نافذ کیے گئے ذیلداری نظام کے تحت ڈپٹی کمشنر ملتان کا مقرر کردہ “ذیلدار” ہے، جبکہ دوسرا اپنے پیشے، علمی مقام اور ممتاز معاشرتی حیثیت کے باعث اس سہولت کا مستحق قرار پایا ہے، کیونکہ اُسے دہلی کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے “پریس اینڈ رجسٹریشن آف بُکس ایکٹ، ۱۸۶۷ء” کے تحت ڈیکلریشن دے کر ایک ہفت روزہ اخبار کا “مدیر” بنایا ہے ۔
گویا دونوں ہی کسی نہ کسی صورت تاجِ برطانیہ کے قائم کردہ انتظامی نظام کے مستفید افراد ہیں۔ حُسنِ اتفاق دیکھیے کہ جو گراموفون اس کوٹھڑی میں رکھا ہے، وہ بھی تاجِ برطانیہ کی رائج کردہ تجارتی سرگرمیوں کے نتیجے میں یورپ سے ملتان کی اِس خاموش کوٹھڑی تک پہنچا ہے۔
“مومی تھالیوں” میں محفوظ گیتوں کو سنانے والا یہ آلۂ موسیقی، یعنی گراموفون، دولت مند اور صاحبِ اثر خاندانوں کی معاشرتی وجاہت کی علامت سمجھا جاتا ہے، اور منٹگمری کے “ذیلدار” نے بھی، غالباً اسی وجاہت کے پیشِ نظر، جیل سپرنٹنڈنٹ کی اجازت سے اِسے اپنی کوٹھڑی میں رکھوایا ہے۔
ان دونوں قیدیوں کا لسانی اور علاقائی پس منظر مختلف ہے، لیکن یہ دونوں ہی گراموفون سے نشر ہونے والے کلام اور آواز کے یکساں اسیر دکھائی دیتے ہیں۔ ایک ملتان ڈویژن کے علاقے منٹگمری کا رہائشی، ملتانی زبان بولنے والا مسلمان ہے، جبکہ دوسرا دہلی کا باسی، صرف پنجابی اور اُردو سے شناسائی رکھنے والا سکھ سردار ہے۔ مگر شعر اور سُر کا جادو، ان دونوں پر یکساں طاری ہے۔
گیت ختم ہوتے ہی جونہی گراموفون کی آواز خاموش ہوتی ہے، دہلی کے ہفت روزہ اخبار کا سکھ “مدیر” منٹگمری کے مسلمان “ذیلدار” سے پوچھتا ہے: “یہ کس گائیکہ کی آواز ہے؟”
جواب ملتا ہے: “بدرو ملتانی کی۔”
وہ پھر پوچھتا ہے: “اور یہ کلام کس شاعر کا ہے؟”
“ذیلدار” جواب دیتا ہے: “خواجہ غلام فریدؒ مِٹھن کوٹی کا۔”
یہ مختصر سا جواب “مدیر” کے ذہن میں کئی نئے سوالات پیدا کر دیتا ہے۔ اب اُس کی دلچسپی گائیکہ سے زیادہ صاحبِ کلام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی طرف مڑ جاتی ہے۔
مَنٹگمری کا “ذیلدار” اپنی علمی بساط کے مطابق صرف اتنا ہی بتا پاتا ہے کہ حضرت خواجہ غلام فریدؒ ریاستِ بہاولپور کے نواب صادق محمد خان عباسی (چہارم) کے پیر تھے۔ آپ کا وطن چاچڑاں شریف تھا، جبکہ آپ کا مزار دریائے سندھ کے دوسرے کنارے پر کوٹ مِٹھن میں واقع ہے۔ ریاستِ بہاولپور اور پورے خطۂ مُلتان کے لوگ آپ کے کلام کو شوق اور احترام سے سنتے ہیں، اور آپ کا دیوان، جو اُس وقت تک کسی مستند تدوین، تشریح یا اُردو ترجمے کے بغیر مختلف اشاعتوں میں چھپتا ہے، بازاروں میں بھی فروخت ہوتا ہے۔
“ذیلدار” کا حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی مدح میں یہ سب کچھ کہنا کسی طور بھی بے جا نہ تھا۔ آپ برصغیر کے اُن معدودے چند صوفی شعراء میں شمار ہوتے ہیں جن کے عارفانہ کلام میں وہ سبھی مضامین موجود ہیں جو معارف و تصوفِ اسلامیہ کی تقریباً ہزار سالہ روایت کے مختلف ادوار میں مدون ہوئے۔ آپ کی “ریاستی”، “بہاولپوری” یا “ملتانی” (جسے بعد کے زمانے میں “سرائیکی” کا نام دیا گیا) زبان میں لکھی گئی ۲۷۱ کافیاں عشقِ حقیقی، معرفتِ ربّانی، مظاہرِ فطرت سے محبت اور احترامِ انسانیت جیسے مضامین کا منبع ہیں۔
“ذیلدار” سے یہ باتیں سُن کر دہلی کا “مدیر” بے اختیار کہہ اُٹھتا ہے کہ میں ملتانی زبان سے عدم واقفیت کے سبب اس کلام کو کماحقہٗ سمجھ نہیں پایا، لیکن اس کے سوز و گداز نے مجھے اس بات کا یقین دلا دیا ہے کہ اس کے ایک ایک شعر پر اگر تخیل اور جذبات کے لاکھوں مَن موتی بھی نچھاور کر دیے جائیں تو کم ہوں گے۔ اگر ریاستِ بہاولپور اور خطۂ مُلتان کے لوگ واقعی قدرشناسی کا مظاہرہ کریں تو اس شاعر کے حالاتِ زندگی اور اُن کے تمام کلام کو ایک جگہ جمع کریں، اُسے عمدہ کاغذ پر شائع کریں اور اُس کا اُردو ترجمہ بھی کرائیں۔
وہ مزید کہتا ہے کہ میں نے سُن رکھا ہے کہ بہاولپور کے موجودہ نواب علم دوست اور فیاض شخصیت کے مالک ہیں۔ اگر وہ اس طرف توجہ دیں تو یہ اُن کا ایک بڑا احسان ہوگا۔
پھر وہ “مدیر” اپنے ساتھی “ذیلدار” سے وعدہ کرتا ہے کہ جیل سے رہائی کے بعد ، حسبِ توفیق، بغیر کسی معاوضے کے عارفانہ کلام کے اِس مجموعے کی اشاعت کی نگرانی کی خدمت انجام دوں گا۔
“مدیر” کا بہاولپور کے نواب سے حضرت خواجہ غلام فریدؒ کافیوں کے اُردو ترجمے کا مطالبہ کرنا بھی کسی طور غیر متعلقہ بات نہ تھی، کیونکہ کلامِ فریدؒ شیخ محی الدین ابنِ عربیؒ کے فلسفۂ وحدت الوجود اور دیگر اکابر صوفیاء کے عرفانی افکار سے گہری اثرپذیری کے سبب ایسے دقیق عرفانی مضامین، عربی اور فارسی تراکیب کا حامل ہے کہ ہر قاری آپ کے کلام کی کماحقہٗ تفہیم کا اہل نہیں رہتا۔
جیسا کہ مولانا رومؒ نے فرمایا ہے کہ “طُعمۂ ہر مُرغکے اَنجیر نیست”( انجیر ہر پرندے کی غذا نہیں۔) بعینہٖ، ہر ذہن کلامِ فرید کے ایسے بلند معارف کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ شاید اسی سبب سے دہلی کے “مدیر” نے محض کلامِ فریدؒ کی تحسین پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اِس کے اُردو ترجمے کا مطالبہ بھی کیا، تاکہ ملتانی زبان سے ناواقف اہلِ علم بھی اِس عرفانی خزانے سے فیض یاب ہو سکیں۔
گراموفون سے بلند ہونے والی آواز کی مالک “بدرو ملتانی” بھی فنِ موسیقی میں اپنی مثال آپ تھیں۔ اُن کا اصل نام “بدرالنساء” تھا، مگر ملتان کی نسبت سے “بدرو ملتانی” کے نام سے مشہور ہوئیں۔ یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر میں ریڈیو کی نشریات ابھی اپنی ابتدائی منزلوں میں تھیں اور عام لوگوں کی رسائی اُن تک نہ ہونے کے برابر تھی۔ موسیقی اور گائیکی کی اشاعت کا سب سے مؤثر ذریعہ گراموفون ہی سمجھا جاتا تھا۔
بیسویں صدی کے ابتدائی نصف میں بدرو ملتانی کی گائی ہوئی کافیوں، لوک گیتوں اور صوفیانہ کلام کے گراموفون ریکارڈ پنجاب، ریاستِ بہاولپور اور برصغیر کے دوسرے خوش حال گھروں تک پہنچے۔ تاہم حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی کافیوں کو جس سوز و گداز سے اُنہوں نے گایا، وہی اُن کی دائمی شہرت کا سبب بنا، اور انہی ریکارڈوں میں سے ایک ریکارڈ ملتان کی سنٹرل جیل کی اُس خاموش کوٹھڑی تک بھی پہنچا تھا۔
چند ہی روز بعد “ذیلدار” اور “مدیر” کی یہ رفاقت ٹوٹ جاتی ہے، جس کی وجہ یہ بنتی ہے کہ ملتان جیل کے سپرنٹنڈنٹ سردار رام سنگھ، انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات کو ایک رپورٹ بھیجتے ہیں کہ “مدیر” اور اُس کے ساتھ آٹھ دس دوسرے سیاسی قیدی “گستاخ” اور “اشتعال پھیلانے والے” ہیں، اور اگر اُنہیں ملتان جیل میں مزید رکھا گیا تو وہ دوسرے قیدیوں کو بھی اپنے اثر میں لے آئیں گے۔ چنانچہ اس رپورٹ کی بنیاد پر “مدیر” کو پہلے چھ ماہ کے لیے امبالہ جیل منتقل کر دیا جاتا ہے۔ بعد ازاں حکومتِ ہند کے اس فیصلے پر کہ دہلی سے تعلق رکھنے والے تمام سیاسی قیدیوں کو ایک ہی جیل میں جمع کیا جائے، اُسے فیروزپور جیل بھیج دیا جاتا ہے، جہاں سے وہ چند ہفتوں بعد رہائی پا کر دہلی واپس چلا جاتا ہے۔
جیل سے رہائی پانے کے بعد، ۲ فروری ۱۹۴۲ء کو اپنے ہفت روزہ کے اداریے (Editorial) میں “مدیر”، ملتان جیل میں اپنے منٹگمری کے ہم جیل ساتھی کا نام لے کر، اُس کے گراموفون پر بدرو ملتانی کی آواز میں سنی گئی حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی کافی کا تذکرہ کرتے ہوئے نوابِ بہاولپور کے سامنے وہی مدعا تحریری صورت میں پیش کرتا ہے، جو ملتان جیل میں اُس نے اپنے ساتھی کے سامنے زبانی بیان کیا تھا۔ وہ مطالبہ کرتا ہے کہ حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے حالاتِ زندگی اور اُن کے تمام کلام کو یکجا کر کے عمدہ کاغذ پر شائع کیا جائے، مشکل الفاظ کی تشریح کی جائے اور اُس کا بامحاورہ اُردو ترجمہ بھی تیار کیا جائے۔
نواب سر صادق محمد خان عباسی پنجم، “ریاست”(دہلی) کے مدیر دیوان سنگھ مفتون کے اس مطالبے کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں اور حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے کلام کی تدوین، تشریح اور اُردو ترجمے کے لیے فوری طور پر ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ اس کمیٹی کی سربراہی مولوی عزیز الرحمن بہاولپوری کے سپرد کی جاتی ہے، جبکہ اُن کے معاونین میں علامہ عبدالرشید طالوت، مولوی نور احمد خان (ساکن جگو والا، تحصیل شجاع آباد، ضلع ملتان)، پروفیسر معین صاحب، ایم۔اے، مولوی فیض محمد صاحب (ریٹائرڈ ڈسٹرکٹ جج)، منشی واحد بخش بلوچ، مولوی محمد عبدالمجید صاحب اور مولوی نصیرالدین صاحب جیسے جید اہلِ علم شامل ہوتے ہیں۔
کمیٹی اپنی ذمہ داری پوری تندہی، تحقیق اور علمی احتیاط کے ساتھ انجام دیتی ہے، اور بالآخر ۱۹۴۴ء میں حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے کلام کا یہ تشریحی و اُردو ترجمہ شدہ دیوان شائع ہو کر منظرِ عام پر آ جاتا ہے۔
یہ محض ایک ترجمہ نہ تھا، بلکہ ریاستی (بعد ازاں سرائیکی) زبان کے ایک عظیم صوفی شاعر کے عارفانہ کلام کو پہلی مرتبہ اُردو خواں دنیا کے سامنے ایک منظم، مستند اور قابلِ فہم صورت میں پیش کرنے کا تاریخی کارنامہ تھا۔ یوں حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی شاعری کا یہ پہلا تفہیمی روپ ثابت ہوا، جس نے پہلی مرتبہ کلامِ فرید کو ریاستی یا ملتانی زبان کے دائرے سے نکال کر اُردو خواں طبقے کے لیے قابلِ فہم بنا دیا اور برصغیر میں فریدی فکر کے ابلاغ کا ایک نیا باب کھول دیا۔
یوں ملتان کی سنٹرل جیل کی ایک خاموش کوٹھڑی میں رکھا ایک گراموفون، بدرو ملتانی کی آواز میں گائی گئی حضرت خواجہ غلام فریدؒ کی ایک کافی، مَنٹگمری کے ایک “ذیلدار” کی مختصر سی گفتگو، دہلی کے ایک “مدیر” کی بے ساختہ داد، اور پھر اُس کے قلم سے نکلنے والا ایک اداریہ، سب مل کر برصغیر کی ادبی اور صوفیانہ تاریخ کا رُخ بدل دیتے ہیں۔
بدرو ملتانی کی آواز تو کب کی موت کی اَتھاہ وادی میں گم ہو چکی، مگر اُس کی بازگشت آج بھی حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے پہلے اُردو ترجمہ شدہ دیوان کے صفحات میں سنائی دیتی ہے۔
قدرتِ الٰہی اپنے سبھی بڑے فیصلے ہمیشہ عدالتوں، درباروں، ایوانوں اور میدانِ جنگ ہی میں نہیں لکھتی؛ بعض فیصلے زندان کی ایک خاموش کوٹھڑی میں بھی رقم ہو جاتے ہیں۔
﴿إِنَّ اللّٰهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾
بے شک اللہ تعالیٰ ہر شے پر قادر ہے۔
مآخذات : (یہ مضمون دیوان سنگھ مفتون کے ۲ فروری ۱۹۴۲ء کے ہفت روزہ “ریاست” کے اداریے، اُن کی خودنوشت “ناقابلِ فراموش”، ریاستِ بہاولپور کے سرکاری ریکارڈ، اور حضرت خواجہ غلام فریدؒ کے اُردو ترجمہ شدہ دیوان کے مقدمے میں درج مباحث کی روشنی میں مرتب کیا گیا ہے۔)





