سائنسدانوں نے جیلی فش میں عمر رسیدگی کو روکنے کی امید ڈھونڈی ہے، جو انسانی جسم کی بیماریوں کے علاج میں مددگار ہو سکتی ہے۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناؤ نیوز) سائنسدانوں نے ایک سمندری جاندار جیلی فش میں بڑھاپے کو روکنے کی امید کی نئی کرن ڈھونڈ لی ہے۔ یہ تحقیق انسانی عمر رسیدگی کو سمجھنے اور قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
تحقیق کا مرکز ہائیڈریکٹینیا سمبیولانگیکارپس نامی جیلی فش ہے، جس میں جسم کو دوبارہ تخلیق کرنے کی غیر معمولی صلاحیت موجود ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ جاندار جسم کے مختلف حصوں کو دوبارہ بنا سکتا ہے۔
یہ ننھی مخلوق سمندر میں کرسٹیشین جانوروں کے خولوں پر رہتی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کی تخلیقی صلاحیتیں انسانی جسم میں بڑھاپے اور بیماریوں کی مرمت میں نئی راہیں کھول سکتی ہیں۔
سائنسدانوں نے جیلی فش کے جینیاتی مواد کا تجزیہ کرتے ہوئے آر این اے کے حصوں کی نشاندہی کی، جو عمر بڑھنے سے متعلق ہیں۔ یہ تحقیق سیل رپورٹس میں شائع ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ جیلی فش کی جسمانی تجدید کے لیے اسٹیم سیلز استعمال کیے جاتے ہیں، جنہیں ماسٹر سیلز کہا جاتا ہے۔ یہ تحقیق مستقبل میں بڑھاپے اور جسمانی کمزوریوں کے علاج میں مددگار ہو سکتی ہے۔















