سونم وانگچک کی جیل سے رہائی کے بعد لداخ میں طلبہ احتجاج میں نئی روح پھونک دی گئی ہے۔ بھارتی حکومت نے امن اور مذاکرات کا عزم ظاہر کیا۔
نئی دہلی: (رائیٹ ناؤنیوز) سونم وانگچک، معروف ہمالیائی انجینئر اور طلبہ رہنما، کو حال ہی میں بھارتی حکومت نے جودھ پور جیل سے رہا کر دیا۔ وانگچک کو بھارت کے قومی سلامتی ایکٹ کے تحت حراست میں لیا گیا تھا، جس کے بعد لداخ میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا۔
وانگچک کی گرفتاری کے دوران لداخ میں چار افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ بھارتی حکومت نے ان کی تقاریر کو احتجاج کا سبب قرار دیا۔ وانگچک نے لداخ کو آئینی حقوق دلوانے کے لیے بھوک ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔
بھارتی وزارت داخلہ نے وانگچک کی رہائی کا اعلان کرتے ہوئے امن، استحکام اور مذاکرات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ وانگچک کی رہائی کے بعد انہوں نے کاکروچ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔
وانگچک نے دہلی کے جنتر منتر پر احتجاجی دھرنے میں بھوک ہڑتال شروع کی، جس پر ڈاکٹروں نے ان کی صحت کے حوالے سے خبردار کیا۔ ان کی حمایت میں بالی ووڈ کی کئی شخصیات اور اپوزیشن رہنما بھی شامل ہوئے۔
یاد رہے کہ سونم وانگچک نے 1988 میں لداخ میں تعلیمی اصلاحات کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ انہیں 2018 میں رامون میگسیسے ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔












