اسحاق ڈار نے بھارت پر سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جس سے پانی کی سیاست متاثر ہو رہی ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤ نیوز) نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے بیان دیا ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرکے پانی کی سیاست کر رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی دارالحکومت میں جاری کردہ بیان میں کہا کہ بھارت نے معاہدے کو معطل کرکے غیر قانونی اقدام کیا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق سندھ طاس معاہدے کے فریم ورک میں مسائل کا پرامن حل موجود ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی قوانین کے مطابق سندھ طاس معاہدے پر عمل بھارت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر پر عمل پیرا ہے اور پانی کے معاملے پر عالمی قوانین کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ پرامن باہمی بقا کی پالیسی سے انحراف خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہوا تھا جس کا مقصد دریاؤں کے پانی کی منصفانہ تقسیم تھا۔ یہ معاہدہ عالمی قوانین کے تحت دونوں ممالک کی ذمہ داری بناتا ہے کہ وہ پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنائیں۔












