لاہور ہائیکورٹ نے خلع میں بیوی کے حق مہر کے تحفظ کا فیصلہ سنایا، شوہر کے ظلم پر بیوی محروم نہیں ہوگی۔
لاہور: (رائیٹ ناؤنیوز) لاہور ہائیکورٹ نے شوہر کے ظلم پر خلع لینے والی بیوی کے حق مہر کے حوالے سے فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ اگر بیوی یہ ثابت کر دے کہ شادی کے خاتمے کی وجہ شوہر کا ظلم یا دیگر زیادتیاں ہیں تو وہ اپنے حق مہر سے محروم نہیں ہوگی۔
عدالت نے واضح کیا کہ حق مہر کا فیصلہ ہر مقدمے کے حالات کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ ہر خلع کے مقدمے میں حق مہر کی واپسی لازم نہیں سمجھی جائے گی۔ یہ فیصلہ جسٹس محسن اختر کیانی نے جاری کیا ہے۔
درخواست گزار شوہر ارسلان نے لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جو ابتدائی سماعت پر ہی خارج کر دی گئی۔ ارسلان نے مؤقف اختیار کیا کہ فیملی کورٹس ایکٹ کی شقیں اسلامی احکامات سے متصادم ہیں۔
واضح رہے کہ عدالت نے جسمانی تشدد کے علاوہ ذہنی اور نفسیاتی تشدد کو بھی ظلم کے زمرے میں شامل کیا ہے۔ بیوی کے لیے ہر واقعے پر میڈیکل رپورٹ پیش کرنا ضروری نہیں بلکہ قابل اعتماد بیان بھی کافی ہے۔
یاد رہے کہ عدالت نے پنجاب حکومت اور لا اینڈ جسٹس کمیشن کو سفارش کی ہے کہ قانون میں نئی شق شامل کی جائے تاکہ فیملی عدالتیں شادی کے خاتمے کی وجہ کا تعین کرنے کے بعد حق مہر کے بارے میں فیصلہ کر سکیں۔












