امریکی صدر ٹرمپ نے ایران معاہدے پر فیصلہ مؤخر کر دیا، جنگ بندی کی کوششیں تعطل کا شکار ہیں۔ ایران اور امریکہ کے بیانات میں تضادات برقرار ہیں۔
واشنگٹن: (رائیٹ ناؤ نیوز) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران معاہدے پر حتمی فیصلہ کرنے کے بجائے میٹنگ ختم کر دی ہے۔ ایران کے ساتھ تین ماہ سے جاری جنگ کو روکنے کی کوششیں تاحال کامیاب نہیں ہو سکیں۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے سخت شرائط عائد کریں گے۔ ان کی شرائط میں جوہری ہتھیاروں کی تخلیق سے باز رہنا اور آبنائے ہرمز کو کھولنا شامل ہیں۔
امریکی اہلکار کے مطابق، ایران کے ساتھ 60 دن کی جنگ بندی کا عارضی معاہدہ طے پا چکا ہے۔ اس دوران آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگیں ہٹائی جائیں گی۔
واضح رہے کہ خطے میں معاشی و فوجی تناؤ برقرار ہے۔ ایران نے کویت کی جانب میزائل داغنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ امریکا نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔
یاد رہے کہ ایران کا موقف ہے کہ امریکی صدر کے دعوے معاہدے کے متن سے متضاد ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق، امریکا کی طرف سے ایران کے منجمد اثاثے بحال نہ ہونے تک مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔















