وفاقی وزیر توانائی نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ نیٹ میٹرنگ میں تبدیلی کے باوجود درخواستوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سولر پر 18 فیصد ٹیکس کا معاملہ زیر غور ہے۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناؤنیوز) وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ نیٹ میٹرنگ میں تبدیلی کے باوجود درخواستوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹ میٹرنگ میں کسی پر ظلم نہیں ہوا۔
انہوں نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 18 فیصد ٹیکس کی تجویز پر غور کیا گیا۔ سردار اویس کا کہنا تھا کہ پچھلے سال 74 فیصد بجلی مقامی وسائل سے حاصل کی گئی تھی۔
اجلاس میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بجلی کی پیداوار 94 فیصد تک مقامی وسائل سے ہو جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ تبدیلیاں کابینہ کی منظوری کے بعد لائی گئی ہیں۔
یاد رہے کہ پچھلی حکومت میں نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز کا آغاز ہوا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سولر توانائی کا منصوبہ ماحول دوست ہے اور سرمایہ کاروں کے لئے منافع بخش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نئی ریگولیشنز کے تحت سولر توانائی کی قیمت 9 روپے 80 پیسے فی یونٹ مقرر کی گئی ہے۔ وزیر توانائی نے بتایا کہ مقامی پیداوار بڑھانے کے لیے حکومتی کوششیں جاری ہیں۔















