سندھ میں 9 ماہ میں ترقیاتی بجٹ کا صرف 35 فیصد خرچ ہوا، 520 ارب روپے مختص تھے۔
کراچی: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ سندھ میں رواں مالی سال کے 9 ماہ مکمل ہو گئے، لیکن ترقیاتی بجٹ کا صرف 35 فیصد ہی خرچ ہو سکا۔
رواں مالی سال 3 ہزار 642 ترقیاتی منصوبوں کے لیے 520 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ تاہم 9 ماہ گزرنے کے باوجود ترقیاتی اخراجات کی رفتار سست رہی۔
دوسری جانب غیر ترقیاتی بجٹ کے اعداد و شمار بھی سامنے آ گئے ہیں۔ رواں مالی سال 22 کھرب 11 ارب روپے کے غیر ترقیاتی بجٹ میں سے 9 ماہ کے دوران 12 کھرب 38 ارب روپے خرچ کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق سندھ حکومت کو مالی سال کے آخری 3 ماہ میں غیر ترقیاتی مد میں مزید 9 کھرب 73 ارب روپے خرچ کرنے ہیں۔
پینشن کی مد میں 2 کھرب 71 ارب روپے مختص کیے گئے تھے، جن میں سے 2 کھرب 36 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
سڑکوں، ٹرانسپورٹ، عمارتوں اور نہروں کی مرمت کے لیے 57 ارب 11 کروڑ روپے رکھے گئے تھے۔ ان میں سے 9 ماہ کے دوران 26 ارب 3 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
وزراء، افسران، گیس، بجلی اور روزمرہ سرکاری اخراجات کے لیے 2 کھرب 42 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ اس مد میں اب تک ایک کھرب 27 ارب 19 کروڑ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔
دفتری استعمال کی اشیا اور نئی خریداری کے لیے 40 ارب 52 کروڑ روپے رکھے گئے تھے۔ اس مد میں 9 ماہ کے دوران 11 ارب 57 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
ماہرین کے مطابق ترقیاتی بجٹ کے کم استعمال سے عوامی منصوبوں کی رفتار متاثر ہو سکتی ہے۔ مالی سال کے آخری 3 ماہ میں اخراجات کی رفتار بڑھنے کا امکان ہے، تاہم اس سے منصوبوں کے معیار اور نگرانی پر سوالات بھی اٹھ سکتے ہیں۔












