اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کے تبادلے کی شفافیت پر سوالات اٹھاتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) اسلام آباد ہائی کورٹ کے تین ججز کے تبادلے کا معاملہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے یہ درخواست دائر کی ہے۔
درخواست لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے حامد خان نے جمع کرائی، جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ججز کے تبادلوں میں شفافیت کا فقدان ہے اور اس عمل میں وجوہات نہیں بتائی گئیں۔ حکومت اور جوڈیشل کمیشن کو فریق بنایا گیا ہے۔
یہ درخواست آرٹیکل 183 کی شق تین کے تحت سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہے۔ درخواست گزار نے 27ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کی گئی ترامیم کو غیر آئینی قرار دیا ہے اور ججز کے تبادلوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو نہیں دیا جا سکتا۔ ججز کے تبادلوں کے لیے 27ویں آئینی ترمیم کے بعد آرٹیکل 200 میں ترمیم کی گئی جو غیر آئینی ہے۔
یاد رہے کہ یہ معاملہ ججز کے تبادلوں کی شفافیت اور آئینی ترامیم کے اثرات کے حوالے سے اہمیت اختیار کر گیا ہے، جوڈیشل عمل کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے عدالتوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔














