وزارت توانائی کے دعوے اور نیپرا کے نوٹیفکیشن میں تضاد سے سولر صارفین ابہام میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
اسلام آباد: (رائیٹ ناوٴ نیوز) وزارت توانائی کے پاور ڈویژن کی ٹویٹ اور نیپرا کے نوٹیفکیشن میں بظاہر تضاد سامنے آگیا ہے۔ پاور ڈویژن نے دعویٰ کیا کہ 25 کلوواٹ سے کم سولر صارفین کے لیے لائسنس شرط ختم کر دی گئی ہے۔
پاور ڈویژن کی ٹویٹ کے مطابق وفاقی وزیر پاور اویس احمد خان لغاری کی خصوصی ہدایت پر نیپرا نے فیصلہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ 25 کلوواٹ اور اس سے کم سولر صارفین کے لیے لائسنس کی شرط ختم کر دی گئی ہے۔
نیپرا کے جاری نوٹیفکیشن میں 25 کلوواٹ یا اس سے کم ڈی جی سہولت کی فیس صفر درج کی گئی ہے۔ تاہم نوٹیفکیشن میں لائسنس یا کنکرنس (Concurrence) کی شرط ختم کرنے کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں۔
وفاقی وزیر پاور سسردار اویس احمد خان لغاری کی خصوصی ہدایت پر پاور ڈویژن کی درخواست پر نیپرا نے 25کلوواٹ اور اس سے کم سولر صارفین کیلئے لائسنس کی شرط ختم کردی ۔شکریہ نیپرا pic.twitter.com/6o4TXpZxSf
— MOE- Power Division, Government of Pakistan (@MoWP15) April 28, 2026
نوٹیفکیشن کے مطابق 25 کلوواٹ سے زائد سولر سہولت پر 1000 روپے فی کلوواٹ یکمشت فیس لاگو ہوگی۔ یہ فیس نیپرا کے حق میں جمع کرائی جائے گی۔
نیپرا نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ فیصلہ 9 فروری 2026 سے مؤثر تصور ہوگا۔ اس صورت حال سے سولر صارفین میں لائسنس، کنکرنس اور فیس کے معاملے پر نئی الجھن پیدا ہو گئی ہے۔
واضح رہے کہ نیپرا کے پروزیومرز ریگولیشنز 2026 کے بعد سولر صارفین کے لیے قواعد پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔ پاور ڈویژن کی ٹویٹ اور نیپرا نوٹیفکیشن میں فرق سے صارفین مزید ابہام کا شکار ہو سکتے ہیں۔











