انسانی تاریخ پر نئی ڈی این اے تحقیق کے چونکا دینے والے نتائج

نئی ڈی این اے تحقیق نے انسانی ارتقا کے نظریے کو چیلنج کرتے ہوئے جدید انسانوں کی مختلف افریقی آبادیوں سے پیدائش کا دعویٰ کیا ہے۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ڈی این اے تحقیق نے انسانی تاریخ کا نظریہ بدلا

نیویارک: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ انسانی ارتقا پر نئی ڈی این اے تحقیق نے روایتی نظریات کو چیلنج کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق جدید انسان مختلف افریقی آبادیوں کے طویل باہمی تعلق سے وجود میں آئے۔

بین الاقوامی جریدے ‘نیچر’ میں 2023 میں شائع ہونے والی تحقیق میں انسانی ارتقا کا نیا ماڈل پیش کیا گیا ہے۔ اس ماڈل کے مطابق انسانوں کی ابتدا ایک سادہ خاندانی درخت کے بجائے پیچیدہ نیٹ ورک کی صورت میں ہوئی۔

تحقیق میں افریقی آبادیوں کے جینیاتی ڈیٹا کو ابتدائی ‘ہومو سیپینز’ فوسل شواہد کے ساتھ ملا کر تجزیہ کیا گیا۔ نتائج سے ظاہر ہوا کہ ابتدائی انسان افریقا کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے تھے اور جینیاتی تبادلہ کرتے رہے۔

ماہرین متفق ہیں کہ جدید انسانوں کی ابتدا افریقا میں ہوئی، تاہم یہ سوال باقی ہے کہ ابتدائی انسانی گروہ کیسے بٹے، نقل مکانی کی اور دوبارہ ملے۔

یاد رہے کہ تحقیق کی مصنفہ برینا ہین نے کہا کہ محدود فوسلز اور قدیم ڈی این اے کے شواہد کی وجہ سے بہت سے سوالات باقی ہیں۔ تحقیق کا ایک اہم حصہ جنوبی افریقا کے قبیلے ‘ناما’ کے 44 جینومز کا تجزیہ تھا۔

دیگر متعلقہ خبریں