ڈیجیٹل کلاس رومز کا الٹا اثر، طلبہ کی تحریری صلاحیت کم ہونے لگی

امریکہ میں ڈیجیٹل تعلیم کی پالیسی سے طلبہ کی ذہنی کمزوری کا سامنا ہے، ماہرین توازن کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

RIGHTNOW NEWS
ویب ڈیسک
ڈیجیٹل تعلیم سے امریکی نسل کی ذہنی کمزوری

واشنگٹن: (رائیٹ ناوٴ نیوز)۔ امریکہ میں گزشتہ 20 سالوں میں اسکولوں میں ڈیجیٹل اسکرینز کے استعمال کے لیے تقریباً 30 ارب ڈالر خرچ کیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد طلبہ کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنا تھا، مگر نتیجہ طلبہ کی ذہنی کمزوری کی صورت میں نکلا۔

تحقیقات سے ثابت ہوا ہے کہ کلاس رومز میں ڈیجیٹل مواد کا استعمال بڑھتا جا رہا ہے۔ 2021 کے ایک سروے کے مطابق 82 فیصد اساتذہ نے کہا کہ طلبہ روزانہ 1 سے 5 گھنٹے اسکرینز پر گزارتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تعلیمی ٹیکنالوجی کا غلط استعمال اصل چیلنج ہے۔ ماہرین نے بہتر تربیت کی ضرورت پر زور دیا تاکہ ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال ہو سکے۔

یہ مسئلہ اہم ہے کیونکہ طلبہ کی تحریری صلاحیت اور توجہ میں کمی آرہی ہے، جبکہ مغربی ممالک میں آئی کیو اسکور میں کمی کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔

واضح رہے کہ سویڈن اور فن لینڈ جیسے ممالک دوبارہ کاغذ اور کتابوں کی طرف لوٹ رہے ہیں، جبکہ امریکہ میں ڈیجیٹل تعلیم پر اربوں ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں۔

دیگر متعلقہ خبریں