ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا، جنگ کسی کے مفاد میں نہیں۔
تہران: (رائیٹ ناوٴ نیوز) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جنگ کسی کے مفاد میں نہیں، دشمن پر عدم اعتماد اور تعلقات میں ہوشیاری ضروری ہیں۔ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ہر عقلی اور سفارتی راستہ اپنانا چاہیے۔
ایرانی پارلیمان کی نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے الجزیرہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے اپنی ریڈ لائنز واضح کردی ہیں۔ مذاکرات جاری رہیں گے، مگر ایران کسی بھی قیمت پر بات چیت کا خواہاں نہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق جنگ میں جاں بحق افراد کی تعداد 3 ہزار 375 ہوچکی ہے، جن میں 496 خواتین شامل ہیں۔ چار افراد کی شناخت ابھی تک نہیں ہوسکی۔
واضح رہے کہ روس میں ایرانی سفیر نے روسی میڈیا کو بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے ناکام رہے۔ ایران پہلے سے زیادہ متحد اور پرعزم ہے، اور آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو یقینی بناتا ہے۔













