چین نے خلائی صنعت کی وسعت کے لیے بیجنگ میں ‘سیٹلائٹ ٹاؤن’ کی تعمیر شروع کی۔ یہ مرکز جدید خلائی ٹیکنالوجی کا ہیڈکوارٹر ہوگا۔
بیجنگ: (رائیٹ ناوٴ نیوز) چین نے اپنی خلائی صنعت کو وسعت دینے کے لیے بیجنگ میں ایک مخصوص صنعتی مرکز کی تعمیر کا آغاز کیا ہے جسے ‘سیٹلائٹ ٹاؤن’ کہا جائے گا۔ یہ مرکز مستقبل کی خلائی ٹیکنالوجی کے ہیڈکوارٹر کے طور پر کام کرے گا۔
اس مرکز میں سیٹلائٹ بنانے والی کمپنیاں اور ماہرین مل کر کام کریں گے تاکہ چین کی خلائی معیشت کو فروغ مل سکے۔ چینی میڈیا کے مطابق، فی الحال چین کے 60 فیصد سے زائد خلا میں جانے والے مشن نجی یا تجارتی نوعیت کے ہیں۔
چین کے اس اقدام کا مقصد تمام سہولیات کو ایک ہی جگہ پر فراہم کرنا ہے تاکہ سیٹلائٹ کی تیاری، ان کے پرزے بنانے اور کنٹرول کرنے کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس منصوبے سے سیٹلائٹ انٹرنیٹ، خلا میں ڈیٹا پروسیسنگ اور 6 جی ٹیکنالوجی پر کام تیز ہوگا۔ چین کی خلائی مارکیٹ میں بڑی سرمایہ کاری کی توقع ہے۔
یاد رہے کہ چینی حکومت خلا میں اپنی موجودگی کو بڑھانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور اس منصوبے سے اس کی خلائی مارکیٹ کھربوں روپے تک پہنچنے کی امید ہے۔











